سوپور: پولیس تھانے پر حملہ، شہری ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

بھارت کے زیرِانتظام کشمیر کے شمالی قصبہ سوپور میں پولیس تھانے پر ہونے والے ایک حملے میں دو پولیس اہلکار اور تین شہری زخمی ہوگئے۔

سوپور میں پولیس کا کہنا ہے کہ تھانے پر عسکریت پسندوں کے حملے میں ایک راہگیر ہلاک جبکہ دو پولیس اہلکار اور تین شہری زخمی ہوگئے۔

حملے کے بعد قصبہ میں حملہ آوروں کو تلاش کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کر دیا گیا۔

سوپور پولیس کے سربراہ امتیاز حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ سنیچر کی صبح پولیس تھانے کے قریب کھڑی بکتر بند گاڑی پر نامعلوم سمت سے فائرنگ کی گئی تاہم اس میں کوئی شخص زخمی نہیں ہوا۔

انہوں نے بتایا کہ اس حملے کے کچھ دیر بعد جب یہ گاڑی تھانے سے باہر نکلی تو سوپور چوک میں اس پر چاروں جانب سےفائرنگ کی گئی۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جس گاڑی کو نشانہ بنایا گیا ہے اس میں مسٹر امتیاز حسین ہی سفر کرتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس حملے کا ہدف وہی تھے۔

پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ حملہ مقامی مسلح گروپ حزب المجاہدین کے جاوید احمد نے کیا ہے۔

اس حملے سے صرف ایک دن قبل یعنی جمعہ کے روز سوپور میں اُنیس سال قبل نیم فوجی دستوں کے ذریعہ کیے گئے مبینہ قتل عام میں ستاون شہریوں کی ہلاکت اور مرکزی بازار کو خاکستر کیے جانے کے خلاف ہڑتال کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ جموں کشمیر پولیس کے سربراہ کلدیپ کھڈا نے سالِ نو کے پیغام میں دعویٰ کیا تھا کہ وادی میں مسلح شدت پسندی کا گراف ستاسی فی صد کم ہوگیا ہے۔

دوسری جانب حکومت کا بھی اصرار ہے کہ اگر ملی ٹینسی کا زور ٹوٹ گیا ہے، تو فوج کو حاصل قانونی تحفظ سے متعلق قانون آرمڈ فورسز سپیشل پاور ایکٹ یا افسپا کو ختم کیا جائے۔

اس معاملے پر حکومت اور فوج کے درمیان کشیدگی جاری ہے، یہاں تک کہ حکمراں جماعت نے فوج پر وادی میں بم دھماکے اور مسلح حملے کروانے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔

اسی بارے میں