جعلی ڈاکٹر، دو گھنٹے، ترپن آپریشن

انڈیا میں خواتین(فائل فوٹو) تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پولیس نے بتایا کہ بعض خواتین کو ان آپریشنوں کے بعد ہسپتال پہنچانا پڑا

انڈیا کی ریاست بہار کی پولیس نے تین افراد کر گرفتار کیا ہے جنہوں نے ڈاکٹر کا روپ دھار کر دو گھنٹوں میں ترپن خواتین کی نس بندی کے غلط آپریشن کر دیے۔

یہ آپریشن بغیر اینستھیزیا کے کھیتوں میں کیے گئے۔ پولیس نے بتایا کہ بعض خواتین کو ان آپریشنوں کے بعد ہسپتال پہنچانا پڑا۔

ضلعی پولیس افسر شیو دیپ لانڈے نے بی بی سی کو بتایا کہ ملزمان میں گوپال جھا، پرکاش جھا اور رمانند جھا شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ آپریشن کا بندوبست جے امبے سوسائٹی کی طرف سے کیا گیا تھا۔

پولیس افسر نے بتایا کہ مذکورہ سوسائٹی بیہار میں وقفے وقفے خاندانی منصوبہ بندی کے کیمپ لگاتی رہتی ہے جن میں خواتین کی زندگی خطرے میں ڈال کر کام کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب وہ اس کھیت میں پہنچے جہاں آپرشین کیے جا رہے تھے وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ وہاں ایک بھی کوالیفائیڈ ڈاکٹر موجود نہیں تھا اور آپریشن کے دوران استعمال ہوے والی بعض ادوایات کے استعمال کی تاریخ بھی گزر چکی تھی۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق جے امبے سوسائٹی نے خواتین کو آپریشن کے بدلے میں چھ سو روپے اور مفت ادویات فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ تاہم یہ واضح نہیں انہوں نے ایسا کیوں کیا۔

اسی بارے میں