موت کی سزا پر کورٹ کا اختلافی فیصلہ

Image caption اس مقدمے کی سماعت اب بھارتی چیف جسٹس کریں گے

بھارتی سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے موت کی سزا سے متعلق ایک پاکستانی شہری کی اپیل پر اختلافی فیصلہ سنایا ہے جس کے بعد اسے چیف جسٹس کے سپرد کر دیا گیا ہے۔

دلی میں سنہ انیس سو ستانوے میں ہوئے ایک بس دھماکے کے ملزم محمد حسین کو موت کی سزا سنائی گئی تھی جسے انہوں نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

بھارتی سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے اس مقدمے کی سماعت کی اور ایک جج ایچ ایل دتّو نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اس مقدمے کے گواہوں کو ملزم کے وکیل نے کراس ایگزامن نہیں کیا اس لیے یہ مقدمہ دوبارہ چلنا چاہیے۔

لیکن اُسی بینچ کے دوسرے جج سی کے پرساد اس سے متفق نہیں ہوئے اور اس طرح سپلٹ فیصلہ یعنی اتفاق رائے نہیں ہو پایا جس کے بعد اس مقدمہ کو اب بھارت کے چيف جسٹس جسٹس کپاڈیہ کے پاس منتقل کیا گيا ہے۔

دلی کی ایک ذیلی عدالت نے ایک پاکستانی شہری محمد حسین کو اس مقدمے میں نومبر سنہ دو ہزار چار میں قصور وار ٹھہرایا تھا اور اس کیس کو شاذ ونادر کے زمرے میں رکھتے ہوئے موت کی سزا سنائی تھی۔

محمد حسین کا تعلق پاکستان کے صوبہ پنچاب کے ضلع اوکاڑہ کے ایک گاؤں جندراکھر سے ہے۔ انہوں نے اس سزا کو دلی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا لیکن سنہ دو ہزار چھ میں ہائی کورٹ نے بھی ان کی موت کی سزا برقرار رکھی تھی۔

واضح رہے کہ تیس دسمبر سنہ انیس سو ستانوے کو مغربی دلی کے پنچابی باغ علاقے میں ایک بلیو لائن بس میں دھماکہ ہوا تھا۔ اس دھماکے میں اٹھائس افراد زخمی ہوئے تھے جن میں سے چار افراد کی ہسپتال میں موت ہوگئی تھی۔

محمد حسین کو پولیس نے مارچ سنہ انیس سو اٹھانوے میں گرفتار کیا تھا۔

اس معاملے میں گرفتار کیے گئے دیگر ملزمان عبدالرحمان، اظہر احمد اور مقصود احمد کو ناکافی ثبوتوں کی بناء پر رہا کر دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں