’سوریہ نمسکار‘ کے خلاف مسلمانوں کا فتویٰ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سوریہ نمسکار میں ہندوں کا مقدس لفظ اوم استعمال ہوتا ہے

بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش میں مسلمانوں نے ’سوریہ نمسکار‘ کرنے کے حکومت کے فیصلے کو غیر اسلامی بتاکر اس کی مخالفت کا فیصلہ کیا ہے۔

مسلم رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ’سوریہ نمسکار‘ بتوں کی پوجا کے مترادف ہے اور اسلام میں اس کی اجازت نہیں ہے۔

ریاست میں اس کے خلاف ایک فتوی بھی جاری کیا گیا ہے اور بعض علماء نے اس کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

’سوریہ نمسکار‘' صبح کے وقت جھک کر سورج کو سلام کرنے کا ایک مقدس عمل ہے جو ہندو مذہب کا بھی ایک حصہ ہے اور کرتے وقت ہندوؤں کے مقدس لفظ اوم کا ورد کیا جاتا ہے۔ یہ عمل بطور یوگا بھی کیا جاتا ہے۔

بارہ جنوری کو معروف ہندو فلسفی وی ویکا نند کا جنم دن ہے اور اس موقع پر مدھیہ پردیش کی حکومت نے سکول کے طلباء سے اپیل کی ہے کہ وہ خصوصی طور پر صبح کے وقت ’سوریہ نمسکار‘ کرنے نکلیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ بارہ جنوری کو تمام سکولوں کے طلباء اتنی بڑی تعداد میں ’سوریہ نمسکار‘ کریں کہ اس کا ایک نیا ریکارڈ قائم ہو سکے۔

اس ریکارڈ کو بنانے کا مقصد اسے گنیز بک آف ریکارڈ میں بھی شامل کروانا ہے۔

حکومت کی جانب اس کے لیے جو خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں انہیں تمام سکول کے اہلکاروں تک پہنچایا گیا ہے اور زیادہ سے زیادہ سے طلباء کو جمع کرنے کے لیے بندوبست کیے جا رہے ہیں۔

حالانکہ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلی شیو راج سنگھ چوہان نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ یہ عمل طلباء پر لازمی نہیں ہے۔ لیکن مسلم رہنماؤں نے اس کی شدید مخالفت کی ہے۔

ریاست میں سکولوں کی وزیر تعلیم ارچنا چٹنس کا کہنا ہے ’سوریہ نمسکار‘ یوگا کی ایک مشق ہے جس کا مقصد صحت درست کرنا ہے اور جن لوگوں کو اس میں دلچسپی نہیں ہے وہ اس سے الگ رہ سکتے ہیں۔

انہوں نے ہندو اور مسلم برادری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’سورج نا تو زعفرانی اور نا ہی ہرا ہے۔‘

مسلمانوں کا کہنا ہے کہ ہندو مذہب کے عقیدے مطابق صبح کے وقت یہ سورج کی پوجا کا عمل ہے جسے سکول میں نافذ کر کے مسلم طلباء پر بھی وہ اپنی مذہبی روایات تھوپنے کی کوشش کر رہی ہے۔

حال ہی میں ریاستی حکومت نے گائے ذبح کرنے کے متعلق جو سخت قوانین وضع کیے تھے اس کے مطابق گائے کا گوشت کھانا بھی ایک سنگین جرم ہے۔

اسی بارے میں