’بےقصور کو محض بری کرنا مکمل انصاف نہیں‘

ثاقب رحمن تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ثاقب کو کئی برس جیل میں رکھنے کے بعد معصوم بتاکر رہا کردیا گيا

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں بائیس سالہ شورش کے دوران سینکڑوں نوجوان برسوں کی قید کے بعد عدالت میں بےقصور پائےگئے اور انہیں باعزّت بری بھی کر دیا گیا لیکن یہ سبھی نوجوان جیل جانے کا ’داغ‘ مٹانے سے قاصر ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ بےقصور کو محض بری کرنا مکمل انصاف نہیں ہے اور بھارتی ریاست آندھرا پردیش کی حکومت کے حالیہ فیصلہ نے ان نوجوانوں کے اس احساس کو شدید تر کردیا ہے۔

مئی دو ہزار سات کو بھارتی ریاست آندھرا پردیشن کے دارالحکومت حیدرآباد کی 'مکّہ مسجد' کے اندر ہوئے بم دھماکوں کے سلسلے میں قید اور اذیتیں جھیل چکے درجنوں مسلم نوجوانوں کو عدالت نے نہ صرف باعزّت بری کردیا ہے بلکہ آندھرا کی حکومت نے تقریبا ساٹھ ایسے نوجوانوں کو کردار کی سنّد اور لاکھوں روپے معاوضہ بھی فراہم کیا ہے۔

کشمیر کی نواحی بستی ’بے مینا‘ کے رہنے والے چالیس سالہ ثاقب رحمٰن اور ان کے چار ساتھیوں کو چند ماہ قبل دلّی کی ایک عدالت نے ساڑھے پانچ سال کی قید کے بعد باعزّت بری کردیا۔

عدالت نے دلّی پولیس کی سپیشل سیل کے اُن افسروں کے خلاف کاروائی کا حکم دیا ہے جنہوں نے ثاقب رحمٰن، نذیر صوفی، بشیر شاہ، حاجی غلام محی الدین، مجید بٹ، عبدالقیوم اور بہار کے ایک ہندو شہری بریندر کمار کو جولائی دو ہزار پانچ میں دہشت گردی کے ایک جھوٹے مقدمے میں پھنسایا تھا۔ بریندر کمار سمیت دو افراد ضمانت پر رہا ہوگئے، لیکن دیگر کو تہاڑ جیل پہنچایا گیا۔

گرفتاری کے وقت ثاقب رحمٰن کے بیٹے کی عمر آٹھ ماہ تھی۔’آج میرا بیٹا سات سال کا ہے۔ میں سچ کہوں گا کہ میں جیل میں تھا تو اس کے دل و دماغ پر برا اثر پڑے گا۔ سچ کو چھپاؤں گا تو کل جب وہ دوستوں یا رشتہ داروں سے سنے گا تو سمجھےگا کہ اس کا باپ ایک مجرم تھا۔ میری تجارت گئی، دولت گئی لیکن یہ نفسیاتی نقصان ایسا ہے جس کو پورا کرنا مشکل ہے۔ کون کرے گا میرے ساتھ انصاف؟‘۔

جولائی دو ہزار پانچ میں دلّی پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے کشمیری عسکریت پسندوں کے ایک گروہ کو مسلح تصادم کے دوران گرفتار کیا ہے۔ کئی سال تک سماعت کے بعد فروری دو ہزار گیارہ میں نئی دلّی کی ایک عدالت نے پانچوں نوجوانوں کو باعزّت بری کردیا۔

دوارکا کورٹس کے ایڈیشنل سیشن جج ویریندرا بھٹ نے ایک سو بارہ صفحات پر مشتمل اپنے معنی خیز فیصلے میں کہا ہے کہ فرضی تصادم کی کہانی گھڑنا کسی بھی مہذب سماج میں قابل قبول نہیں ہوسکتا اور اگر گرفتار کیا گیا شخص دہشت گرد بھی ہو، اس کے خلاف بھی ٹھوس ثبوت ہونا لازمی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ دلّی پولیس کے کچھ افسروں میں رجحان ہے کہ اگر کوئی شخص سماج دشمن ہے تو اس کو سزا دلوانے کے لیے جھوٹے ثبوت گھڑے جاسکتے ہیں۔

جسٹس ویریندر لکھتے ہیں کہ ’میں پوری دلّی پولیس کو ابراہم لنکن کا قول یاد دلانا چاہوں گا کہ اگر تم نے اپنے ہی لوگوں کا اعتبار کھو دیا تو اسے دوبارہ پانا مشکل ہوگا۔ کیونکہ تم سبھی لوگوں کو کبھی کبھی بے وقوف بناسکتے ہو، یا کچھ لوگوں کو ہر وقت بے وقوف بناسکتے ہو لیکن سبھی لوگوں کو ہر وقت بے وقوف نہیں بناسکتے‘۔

ساڑھے پانچ سال کی قید کے دوران ان پانچ نوجوانوں کے اہل خانہ کو سنگین مصائب کا سامنا رہا۔ ثاقب رحمٰن کی تجارت ختم ہوگئی کیونکہ اس کے بینک کھاتے منجمد کردیے گئے اور نذیرصوفی کی ماں انتقال کرگئیں جبکہ بیوی نفسیاتی مرض میں مبتلا ہوگئیں۔ جنوبی کشمیر کے ترال قصبہ کے بشیر شاہ کے والدین انتقال کرگئے اور انہیں ان کے آخری رسوم میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption احسن اونتو مکمل انصاف دلوانے کے لئے نئی دلّی کی عدالت سے رجوع کریں گے۔

انسانی حقوق کے لیے سرگرم انٹرنیشنل فورم فار جسٹس (آئی ایف ایف جے) کے سربراہ محمد احسن اونتو کا کہنا ہے کہ وہ ایسے افراد کو مکمل انصاف دلوانے کے لئے نئی دلّی کی عدالت سے رجوع کریں گے۔

محمد اونتو کہتے ہیں ’ہندوستان کی ایک ریاست میں بے قصوروں کو معاوضہ دیا جاتا ہے اور کشمیریوں کو محض یہ کہہ کر خوش کیا جاتا ہے کہ انہیں چھہ سال بعد رہا کیا گیا۔ اگر انصاف کرنا ہے تو مکمل انصاف ہونا چاہیے‘۔

ایسے معاملوں کی تفصیل طویل ہے جن میں کشمیریوں کو دہشت گردی کے الزام میں لمبی قید ہوئی اور بعد میں وہ بےقصور پائے گئے۔ سرینگر کے سیّد مقبول کو چودہ سال قید بامشقت کے بعد عدالت نے الزامات سے بری کردیا، آج وہ اپنے ہی سماج میں اجنبی ہیں۔

اسی طرح دو ہزار پانچ میں شمالی کشمیر کی لولاب وادی کے حاکم الدین خان کو چھ سال کی قید کے بعد باعزّت بری کردیا گیا۔ پانچ بچوں کی کفالت کے بوجھ اور سماج میں الگ تھلگ پڑ جانے کی وجہ سے حاکم الدین نے جولائی دو ہزار دس میں خود اپنے گلے پر چھُری پھیر کر جان دے دی۔

آئی ایف ایف جے کے احسن اونتو کا کہنا ہے کہ عدالتوں سے بری کئے گئے نوجوانوں کی اقتصادی اور سماجی بحالی کو یقینی نہ بنایا گیا تو ایک بڑی آبادی بغاوت پر آمادہ ہوجائے گی۔

’مکہ مسجد دھماکوں کے ملزمان کو کردار کی سند اور نقد معاوضہ دیا گیا۔ حکومت کو چاہیئے کہ کشمیر میں بھی یہی فارمولہ اپنائے۔ یہاں رہاشدہ نوجوانوں کی زندگی اجیرن کیوں بنائی گئی‘۔

اسی بارے میں