بھارت، پولیو فری سال دو ہزار گيارہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بھارت میں پولیو کے خلاف زبردست مہم چلائي گئی ہے

بھارت میں وزارت صحت کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک برس میں ملک میں پولیو جیسی بیماری کا کوئي بھی واقعہ پیش نہیں آیا ہے۔

حکومت کی طرف سے جاری ایک بیان کے مطابق آخری بار تیرہ جنوری دو ہزار گيارہ کو پولیو کا ایک معاملہ سامنے آیا تھا۔

حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق پچھلا واقعہ ریاست مغربی بنگال کے ہاؤڑا کے پنچالہ بلاک میں ظاہر ہوا تھا اور تب سے اب تک بھارت میں پولیو کا کوئی بھی واقعہ پیش نہیں آيا ہے۔

اس سلسلے میں مرکزی وزیر صحت غلام نبی آزاد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ’ ہم پو جوش اور پر امید ہیں اور ساتھ ہی اس کے تئیں ہوشیار اور بیدار بھی ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں معمولی سی لا پراوہی مضر ہو سکتی ہے اس لیے ہمیں ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے اور اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ آئندہ مستقل تین برس تک پولیو انفیکشن بالکل نہ پھیلنے پائے۔

صحت کے عالمی ادرے ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ اس کے پاس بھارت سے متعلق گزشتہ ساڑھے گيارہ ماہ کا ریکارڈ موجود ہے جس میں کوئي بھی پولیو کا واقعہ پیش نہیں آیا ہے۔

ادارہ کے مطابق پندرہ دنوں کے متعلق اس کی اپنی تفتیش جاری ہے اور اگر اس میں بھی کوئی واقعہ پیش نہ آيا ہوا ہوگا تو بھارت کو پولیو کے لیے اینمک ممالک کی فہرست سے ہٹا دیا جائیگا۔

بھارت میں حکومت نے گزشتہ کچھ برسوں سے پولیو کی روک تھام کے لیے زبردست مہم چلائي ہے اور اس کی کوششوں کے نتائج بر آمد ہوئے ہیں۔

غلام نبی آزاد نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے جس سطح پر پولیو کی روک تھام کے لیے مہم چلائی ہے وہ دوسروں کے لیے بھی ایک مثال ثات ہوسکتی ہے۔

ان کے بقول حکومت نے اس کے لیے نا صرف رقم خرچ کی ہے بلکہ تمام ممکنہ ذرائع کا بخوبی استمعال کیا ہے۔

حکومت کی طرف سے جاری ایک رپورٹ کے مطابق بھارت میں ہر برس تقریبا ڈیڑ لاکھ سپروائزروں کے ماتحت چوبیس لاکھ رضا کار پولیو کی خوارک دینے کا کام کرتے ہیں۔

اس سکیم کے تحت پانچ برس کے کم عمر کے تقریبا سترہ کروڑ بچوں کو پولیو کی خوراک دی جاتی ہے اور رضاکار تقریبا بیس کروڑ گھروں پر جا کر بچوں کو خوراک دیتے ہیں۔

اسی بارے میں