رتلام میں بھگڈر سے دس افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ہندوستان میں عبادت گاہوں میں بھگدڑ کے واقعات عام ہیں

بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش کے رتلام ضلع میں واقع شیعہ مسلک کے مسلمانوں کی عبادت گاہ حسین ٹیکری میں بھگدڑ بچنے سے دس افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

رتلام میں ایک سینئیر پولیس اہلکار راجیش ویاس نے بتایا کہ چہلم کے جلوس کے دوران بھگدڑ اس وقت مچی جب بڑی تعداد میں لوگ حسین ٹیکری کے مرکزی دروازے پر جمع ہوگئے۔

راجیش ویاس نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں چھ خواتین اور چار مرد شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس نے نصف شب کے بعد بھیڑ کو قابو کرنے کے لیے انہیں پيچھے کی طرف دھکیلا۔

رتلام کے کلکٹر آر کے شرما نے حادثے کی تفتیش کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کو معاوضے کے طور پر دس ہزار روپے دیئے جائیں گے۔

اس سے قبل گزشتہ نومبر میں ہریدوار میں ایک مذہبی تقریب کے دوران بھگدڑ مچی تھی جس میں کم از کم بیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

گزشتہ جنوری کیریل کے ایک مندر سے لوٹ رہے سو سے زیادہ عقیدت مند ہلاک ہوگئے تھے۔

ہندوستان میں عبادت گاہوں میں بھگدڑ کے واقعات عام ہیں۔

اسی بارے میں