’رہنماء انتخابات کے بعد نظر نہیں آتے‘

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پنجاب کا شمار ملک کی سب سے خوشحال ریاستوں میں ہوتا ہے لیکن ووٹر ہر پانچ سال بعد حکومت بدل دیتے ہیں۔

بھارت کی شمالی ریاست پنجاب میں اگرچہ قانون ساز اسمبلی کے انتخابات لگ بھگ دس دن دور ہیں لیکن پٹیالہ جیسا بڑا شہر ہو یا آس پاس کے دیہاتی علاقے، کہیں کسی بات سے یہ احساس نہیں ہو رہا کہ ریاست میں ایک بڑا الیکشن ہونے والا ہے۔

نہ کہیں نعروں کی گونج، نہ بینر نہ جھنڈے نہ پوسٹر اور نہ بڑے انتخابی جلسے۔ بس ایف ایم ریڈیو سٹیشنوں پر پابندی کے ساتھ امیدواروں کے لیے یہ وارننگ نشر ہوتی رہتی ہے کہ انتخابی مہم کے لیے کسی مذہبی مقام کا استعمال قانوناً جرم ہے جس کے لیے تین سال قید کی سزا دی جاسکتی ہے۔

پٹیالہ میں ہندی روزنامے ’دینک جاگرن‘ کے بیورو چیف نشچل بھٹناگر کہتے ہیں ’الیکشن کمیشن کی سخت پابندیوں اور انتخابی مشاہدین کی موجودگی سے امیدوار خوفزدہ ہیں اور ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی سے بچنے کے لیے گھر گھر جاکر لوگوں سے ووٹ مانگ رہے ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے ’آپ کو اشتہارات ٹی وی اور ایف ایم سٹیشنوں پر ہی نظر آئیں گے۔‘

پنجاب کے ایک سو سولہ اسمبلی حلقوں کے لیے تیس جنوری کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔ تقریباً پونے دو کروڑ افراد کو حق رائے دہی حاصل ہے۔ ریاست میں فی الحال اکالی دل اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی مخلوط حکومت ہے جو اقتدار پر اپنی گرفت برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔

ریاست کی پنجابی یونیورسٹی میں شعبۂ صحافت کے سربراہ پروفیسر ہرجیت ولیا کہتے ہیں کہ یہ الیکشن ترقی اور تبدیلی کے نعروں پر لڑا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے ’بدعنوانی بھی ایک بڑا موضوع ہے لیکن اکالی حکومت کا دعوٰی ہے کہ گزشتہ پانچ برس میں ریاست نے تیز رفتار ترقی کی ہے جبکہ کانگریس اکالی حکومت کو بدعنوان بتاتے ہوئے تبدیلی اور ایک نئے پنجاب کا نعرہ دے رہی ہے۔‘

پنجاب کا شمار ملک کی سب سے خوشحال ریاستوں میں ہوتا ہے لیکن ووٹر ہر پانچ سال بعد حکومت بدل دیتے ہیں۔

پروفیسر والیا کے مطابق اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ریاست سے بڑی تعداد میں لوگ بیرونِ ملک آباد ہوئے ہیں اور وہ اسی پیمانے پر ترقی دیکھنا چاہتے ہیں جو انہوں نے باہر دیکھی ہے۔ اسی لیے کوئی بھی حکومت ایک مدت سے زیادہ نہیں ٹک پاتی۔

ان کا کہنا ہے کہ’یہ دو خاندانوں کی ٹکر بھی ہے۔ ایک طرف بادل خاندان ہے اور دوسری طرف کیپٹن امرندر سنگھ، جو پٹیالہ ریاست کے سابق مہاراجہ ہیں اور جن کی اہلیہ پرنیت کور وفاقی حکومت میں نائب وزیرِ خارجہ ہیں۔ پنجاب میں چار پانچ خاندان ہی سیاست کو کنٹرول کرتے ہیں۔‘

پنجاب کی تقریباً ایک تہائی آبادی دلت یا پسماندہ ذاتوں کے زمرے میں آتی ہے۔ لیکن پروفیسر والیا کہتے ہیں کہ یہاں ذات پات کی سیاست ٹکٹوں کی تقسیم سے زیادہ آگے نہیں بڑھتی۔

پنجاب کی ریاست بھی باقی ہندوستان کی طرح ہی ہے لیکن ذات پات کا اتنا اثر نہیں ہے جتنا اترپردیش اور بہار میں ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ یہاں بہوجن سماج پارٹی کو زیادہ کامیابی نہیں ملی ہے جو پسماندہ کہلانے والی ذاتوں کی نمائندگی کرتی ہے۔

مقامی لوگوں سے بات کریں تو وہ زیاہ کچھ نہیں بولتے۔ ان کی بنیادی شکایت ہے کہ ان کے’رہنماء انتخابات کے بعد نظر نہیں آتے، بااثر لوگوں کو سب ملتا ہے غریبوں کی کوئی نہیں سنتا‘ لیکن بات چیت سے محسوس یہ ہوتا ہے کہ زیادہ تر لوگوں نے پہلے سے ہی اپنا ذہن بنا رکھا ہے بس وہ کھل کر اس کا اظہار نہیں کرتے۔

نشچل بھٹناگر کہتے ہیں کہ انہیں اس بات پر حیرت ہے کہ انتخابی مہم میں ابھی مہنگائی کا زیادہ ذکر نہیں ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے ’جہاں تک بدعنوانی کا سوال ہے بادل خاندان اور کیپٹن امریندر سنگھ دونوں ہی پر الزامات لگتے رہے ہیں۔‘

دونوں جماعتیں اندرونی چپقلش کا شکار ہیں۔ سابق وزیرِ اعلٰی امریندر سنگھ کے بھائی ناراض ہوکر اکالی دل میں شامل ہوگئے ہیں تو وزیرِ اعلٰی پرکاش سنگھ بادل کے بھتیجے نے اپنی علٰیحدہ جماعت بنالی ہے جو کمیونسٹ پارٹیوں کے ساتھ مل کر انتخابی میدان میں اتری ہے اور اکالی دل کونقصان پہنچا سکتی ہے۔

پنجاب کی انتخابی جنگ اب فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ یہاں کامیابی کانگریس کی وفاقی حکومت کے لمبے عرصے کے بعد کوئی اچھی خبر ہوگی لیکن دیکھنا یہ ہوگا کہ ریاست کے عوام تاریخ بدلتے ہیں یا حکومت۔