’ووڈافون جرمانے کے لیے ذمہ دار نہیں ہے‘

ووڈا فونز تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ترقی پذیر ممالک میں ووڈا فونز کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے

بھارت میں سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا ہے کہ برطانوی کمپنی ووڈافون کمپنی چار عشاریہ چار ارب ڈالر کی رقم کے ٹیکس اور جرمانے کے لیے ذمہ دار نہیں ہے ۔

یہ فیصلہ اسی طرح بھارت میں ٹیکس کی تحقیقات کا سامنا کرنے والی دیگر غیر ملکی کمپنیوں پر دباؤ کو کم کر سکتا ہے۔

یہ کیس 2007 ء میں چین کی ہچسن ٹیلی کمیونیکیشنز کے گیارہ ارب ڈالر کی مالیت کے بھارتی اثاثوں کے حصول پر مرکوز ہے۔

ووڈافون نے کہا کہ اس معاہدے میں اس پر ٹیکس واجب الادا نہیں ہے۔

کیونکہ یہ اثاثے کیمن جزائر میں مقیم ایک کمپنی کے پاس ہیں۔

مئی 2007 میں ، ووڈافون کے ہالینڈ کے ماتحت ادارے نے سی جی پی لمیٹڈ میں 67 فیصد حصص حاصل کیے تھے۔

عدالت نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ووڈافون ہچسن ایسسار لمیٹڈ کے ٹیکس یا ان کے اکاؤنٹس کے لیے ذمہ دار نہیں ہے۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ تقریباً آٹھ غیر ملکی کمپنیوں کو بھارتی حکام کی جانب سے اسی طرح کے مقدمات کا سامنا ہے کیونکہ بھارت اس وقت کارپوریٹ ٹیکس آمدنی میں اضافہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اسی بارے میں