رشدی کو لاحق خطرے کی معلومات نہیں: پولیس

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

ممبئی پولیس نے کہا ہے کہ ان کے پاس متنازع مصنف سلمان رشدی کی جان کو خطرے کےبارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔

سلمان رشدی نے بعض مسلم اداروں کی مخالفت کے بعد جے پور کے سالانہ ادبی میلے میں شرکت کا پروگرام یہ کہتے ہوئے منسوخ کیا تھا کہ انٹیلیجنس ایجنسیوں سے وابستہ ذرائع نے انہیں بتایا ہے کہ ہندوستان آنے کی صورت میں ان کی جان کو ممبئی کی مافیا سے خطرہ ہوسکتا ہے۔

مہارشٹر کے ڈائریکٹر جنرل پولیس سبرامنیم کا کہنا تھا ’جب ہمارے پاس اس بارے میں کوئی معلومات تھی ہی نہیں کہ ممبئی کی مافیا سلمان رشدی کو قتل کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے، تو ہم یہ معلومات کسی کو کیسے فراہم کر سکتے تھے؟‘

اس سے قبل ممبئی کے نائب پولیس کمشنر (کرائم)نثار تمبولی نے کہا کہ ’ہمارے پاس ایسی کوئی معلومات نہیں ہیں کہ انڈر ورلڈ سلمان رشدی کو نشانہ بنانے کی تیاری کر رہا ہے‘۔

وفاقی حکومت کی جانب سے اس بارے میں کوئی بیان نہیں دیا گیا لیکن کانگریس کے سینئر رہنماء دگ وجے سنگھ نے اپنے رد عمل میں کہا تھا کہ یہ سلمان رشدی کا ’ذاتی فیصلہ‘ ہے اور حکومت کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔

ہندوستان میں دارالعلوم دیو بند سمیت بہت سے اسلامی ادارے سلمان رشدی کی ہندوستان آمد کی مخالفت کر رہے تھے۔ سلمان رشدی متنازعہ کتاب’سیٹینک ورسز‘ یعنی شیطانی آیات کے مصنف ہیں جو انیس سو نواسی میں شائع ہوئی تھی۔

مسلمانوں کا موقف ہے کہ سلمان رشدی توہین رسالت کے مرتکب ہیں اور ان کے شدید احتجاج کے بعد بھارت سمیت دنیا کے کئی ممالک میں اس کتاب پر پابندی لگا دی گئی تھی۔

متنازع کتاب کے اقتباسات

ادھر جے پور ادبی میلے اور سلمان رشدي کا تنازعہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔

سلمان رشدي تو جے پور نہیں آ رہے گے، لیکن اس میلے میں شریک دو ادیبوں نے تقریب کے ایک سیشن کے درمیان سلمان رشدي کی متنازع کتاب ’سیٹنك ورسز‘ کے کچھ اقتباسات پڑھ کر ایک نیا تنازعہ پیدا کر دیا۔

جے پور کے دربار ہال میں منعقدہ ’آف گڈز اینڈ مین‘ نامی سیشن میں مصنف ہری كجرو اور امیتابھ کمار نے اس متنازع کتاب سے کچھ اقتباسات پڑھ کر سنائے۔

ہری كجرو نے کہا کہ سلمان رشدي کچھ لوگوں کے احتجاج کی وجہ سے جے پور نہیں آ پا رہے، یہ ادب کے لیے اچھی بات نہیں اور وہ اس کی مخالفت کرتے ہیں اور اسی لیے سیٹنك ورسز کے کچھ اقتباسات پڑھ کر وہ اپنی مخالفت جتانا چاہتے ہیں۔

اس تقریب میں اقتباسات پڑھے جانے کے بعد اس معاملے پر ہنگامہ ہوگیا۔

تمام میڈیا چینلز میں یہ خبر دکھائے جانے کے بعد منتظمین نے میڈیا اداروں کو ایک ای میل کے ذریعے وضاحت دی کہ دونوں ادیبوں نے جو کچھ بھی کیا اس سے تقریب کے منتظمین متفق نہیں اور اس پورے عمل کے لیے دونوں مصنف خود ذمہ دار ہیں۔

معاملے کے طول پکڑنے پر حکمران کانگریس پارٹی کے ترجمان ابھیشیک منو سنگھوی نے کہا ہے، ’سیٹنك ورسز کے اقتباسات پڑھ کر یا تو مصنف سستی شہرت بٹورنا چاہ رہے تھے یا پھر بغیر وجہ ایک تنازعہ کھڑا کرنا چاہ رہے تھے۔ قانون کو اس پر کارروائی کرنی چاہیے‘۔

اس سے پہلے سلمان رشدی دو ہزار سات میں جے پور کے ادبی میلے میں شرکت کر چکے ہیں لیکن اس وقت کوئی تنازعہ نہیں ہوا تھا۔ ان کے دورے کی منسوخی پر ادبی حلقوں کی جانب سے سخت رد عمل سامنے آیا ہے اور ملک میں اظہار خیال کی آزادی کے حق اور اس کی حدود پر بحث دوبارہ گرم ہوگئی ہے۔

اسی بارے میں