جے پور پولیس نے جھوٹ بولا: رشدی

سلمان رشدی تصویر کے کاپی رائٹ none
Image caption ہندوستان میں دارالعلوم دیو بند سمیت بہت سے اسلامی ادارے سلمان رشدی کی ہندوستان آمد کی مخالفت کر رہے تھے

عالمی شہرت یافتہ برطانوی مصنف سلمان رشدي نے راجستھان پولیس پر الزام عائد کیا ہے کہ پولیس نے انہیں غلط معلومات دے کر جے پور ادبی میلے سے دو رکھا ہے۔

سلمان رشدي نے فیس بک پر لکھا ہے کہ ان پر حملے کی بات کے بارے میں انہیں جھوٹ بولا گیا ہے۔ .

انہوں نے لکھا ہے کہ ’مجھے لگتا ہے کہ مجھ سے جھوٹ بولا گیا ہے۔میں بے حد ناراض اور غصے میں ہوں۔ مجھے لگتا ہے کہ یہی پولیس ہری كجرو، امتاو کمار اور رچر جوشی کو گرفتار کرنا چاہتی ہے۔‘

وہیں جے پور ادبی میلے کے منتظمین کا کہنا ہے کہ سلمان رشدی سے جھوٹ بولا گیا یا نہیں اس کے بارے میں وزارت داخلہ وضاحت دے ’ہم اس کے بارے میں کچھ نہیں کہ سکتے ہیں۔‘

وہیں راجستھان کے وزیر اعلیٰ اشوک گھیلوت نے ریاستی حکومت کے موقوف دوہراتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے سلمان رشدی کے حفاظت کے سبھی انتظامات کیے گئے تھے لیکن رشدی نہیں آئے تو اس میں حکومت کیا کرسکتی ہے۔

سلمان رشدي جے پور میں جاری سالانہ ادبی میلے میں مدعو تھے اور میلے میں افتتاحی لیکچر دینے والے تھے لیکن میلے کے انعقاد سے پہلے ہی سلمان رشدی نے بعض مسلم اداروں کی مخالفت کے بعد جے پور کے سالانہ ادبی میلے میں شرکت کا پروگرام یہ کہتے ہوئے منسوخ کیا تھا کہ انٹیلیجنس ایجنسیوں سے وابستہ ذرائع نے انہیں بتایا ہے کہ ہندوستان آنے کی صورت میں ان کی جان کو ممبئی کی مافیا سے خطرہ ہوسکتا ہے۔

سنیچر کو ممبئی پولیس نے کہا تھا کہ انہیں مصنف سلمان رشدي پر ہونے والے کسی حملے کے بارے کوئی خفیہ جانکاری نہیں ہے۔

سلمان رشدي تو جے پور نہیں آئے، لیکن اس میلے میں شریک دو ادیبوں نے تقریب کے ایک سیشن کے درمیان سلمان رشدي کی متنازع کتاب ’سیٹنك ورسز‘ کے کچھ اقتباسات پڑھ کر ایک نیا تنازعہ پیدا کر دیا۔

جے پور کے دربار ہال میں منعقدہ ’آف گڈز اینڈ مین‘ نامی سیشن میں مصنف ہری كجرو اور امیتابھ کمار نے اس متنازع کتاب سے کچھ اقتباسات پڑھ کر سنائے۔

ہری كجرو نے کہا کہ سلمان رشدي کچھ لوگوں کے احتجاج کی وجہ سے جے پور نہیں آ پا رہے، یہ ادب کے لیے اچھی بات نہیں اور وہ اس کی مخالفت کرتے ہیں اور اسی لیے سیٹنك ورسز کے کچھ اقتباسات پڑھ کر وہ اپنا احتجاج درج کروا رہے ہیں۔

اس تقریب میں اقتباسات پڑھے جانے کے بعد اس معاملے پر ہنگامہ ہوگیا۔

تمام میڈیا چینلوں میں یہ خبر دکھائے جانے کے بعد منتظمین نے میڈیا اداروں کو ایک ای میل کے ذریعے وضاحت دی کہ دونوں ادیبوں نے جو کچھ بھی کیا اس سے تقریب کے منتظمین متفق نہیں اور اس پورے عمل کے لیے دونوں مصنف خود ذمہ دار ہیں۔

معاملے کے طول پکڑنے پر حکمران کانگریس پارٹی کے ترجمان ابھیشیک منو سنگھوی نے کہا ہے، سیٹنك ورسز کے اقتباسات پڑھ کر یا تو مصنف سستی شہرت بٹورنا چاہ رہے تھے یا پھر بغیر وجہ ایک تنازعہ کھڑا کرنا چاہ رہے تھے۔ قانون کو اس پر کارروائی کرنی چاہیے‘۔

اس سے پہلے سلمان رشدی دو ہزار سات میں جے پور کے ادبی میلے میں شرکت کر چکے ہیں لیکن اس وقت کوئی تنازعہ نہیں ہوا تھا۔ ان کے دورے کی منسوخی پر ادبی حلقوں کی جانب سے سخت رد عمل سامنے آیا ہے اور ملک میں اظہار خیال کی آزادی کے حق اور اس کی حدود پر بحث دوبارہ گرم ہوگئی ہے۔

اسی بارے میں