رشدی کو ویڈیو لنک پر بھی اجازت نہیں ملی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سلمان رشدی کی اس کتاب پر پابندی عائد ہے اور مسلم تنظیمیں ان کے آنے کے خلاف ہیں

بھارتی شہر جے پور میں جاری ادبی فیسٹیول میں منگل کو برطانوی مصنف سلمان رشدی ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرنے والے تھے لیکن ہنگامے کے بعد انہیں اس کا بھی موقع نہیں مل پایا۔

ان کی آمد کی مخالفت کے سبب وہ فیسٹیول میں شریک نہیں ہوسکے تھے اس لیے ویڈیو لنک کا انتظام کیا گيا تھا۔

جے پور میں ادبی فیسٹیول ’ دگّی پیلیس‘ میں ہورہا ہے اور جب ویڈیو لنک کا وقت قریب آيا تو اس کے مالک رام پرتاپ سنگھ نے کہا کہ پولیس کے مشورہ پر انہوں نے ویڈیو لنک کے پروگرام کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس بات کے خدشات ہیں کہ اگر ایسا ہوا تو ہنگامہ بر پا ہوسکتا ہے۔ ’اس جگہ کی حفاظت اور میری اپنی اور سب کی سلامتی کے لیے یہ فیصلہ کیا گيا ہے۔‘

اس ادبی میلے کے منتظم سنجے رائے نے اس فیصلے کو بہت افسوس ناک قرار دیا لیکن کہا کہ تشدد سے بچنے کے لیے وہ ایسا کرنے پر مجبور ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے انہیں آگاہ کیا ہے کہ سلمان رشدی کے مخالفین شہر میں جگہ جگہ جمع ہورہے ہیں اور اگر انہیں پروگرام میں شامل کیا گيا تو تشدد کا خطرہ ہے اور لوگ فیسٹیول کے احاطے میں بھی ہنگامہ کر سکتے ہیں۔

اس پروگرام سے پہلے مسلم تنظیموں، پولیس اور میلے کے منتظمین کے درمیان کئی مرتبہ بات چیت ہوئی تھی لیکن وہ بے نتیجہ رہی اور اس کے بعد ہی ویڈیو لنک پروگرام منسوخ کیا گيا۔

Image caption منگل کی شام جے پور ادبی فسٹیول اپنے اختتام کو پہنچا

سلمان رشدي جے پور کے سالانہ ادبی میلے میں مدعو تھے اور میلے میں افتتاحی لیکچر دینے والے تھے لیکن میلے کے انعقاد سے پہلے ہی سلمان رشدی نے بعض مسلم اداروں کی مخالفت کے بعد جے پور کے سالانہ ادبی میلے میں شرکت کرنے سے معذرت کی تھی۔

لیکن ادیب روچر جوشی، ہری کنجرو، جیت تھیل اور امیتاو کمار جیسے ادیب سلمان رشدی کے نا آنے سے ناراض تھے اور بطور احتجاج ان کی کتاب کے اقتباسات پڑھے تھے۔ ان کے خلاف پولیس نے مقدمہ درج کیا تھا اور یہ افراد ادبی میلہ چھوڑ کر چلے آئے تھے۔

بھارت میں سلمان رشدی کی متنازعہ کتاب سیٹینک ورسز پر پابندی عائد ہے اور بعض مسلم تنظیموں نے ان کے آنے پر اعتراض کیا تھا اور کہا تھا کہ اگر وہ آئیں گے تو ان کے خلاف احتجاج ہوگا۔

تاہم ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ خبریں بے بنیاد ہیں کہ مسلم تنظیمیں تشدد کا راستہ اختیار کریں گی۔ جماعت اسلامی ہند کے سیکریٹری محمد سلیم انجینیئر نے بی بی سی سے بات چیت میں کہا کہ اگر سلمان رشدی آتے تو ان کے خلاف پر امن مظاہر ہوتا اور کوئی بھی غیر قانونی کام نہیں کیا جاتا۔

اس سے پہلے سلمان رشدی سنہ دو ہزار سات میں جے پور کے ادبی میلے میں شرکت کر چکے ہیں لیکن اس وقت کوئی تنازعہ نہیں ہوا تھا۔ ان کے دورے کی منسوخی پر ادبی حلقوں کی جانب سے سخت رد عمل سامنے آیا ہے اور ملک میں اظہار خیال کی آزادی کے حق اور اس کی حدود پر بحث دوبارہ گرم ہوگئی ہے۔

اسی بارے میں