‘یہاں رشوت کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا’

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption اتر پردیش میں گزشتہ پانچ برس سے وزیر اعلٰی مایاوتی کی حکومت رہی ہے

بھارت کی ریاست اتر پردیش میں اسمبلی کے انتخابات ہونے والے ہیں۔ بیس کروڑ کی آبادی والی یہ ریاست ملک کو چھ وزراء اعظم دے چکی ہے۔

سیاسی اعتبار سے یہ ریاست قومی سیاست میں انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ لیکن اس وقت اس کا شمار پسماندگی بدعنوانی اور بد انتظامی کے اعتبار سے ملک کی بد ترین ریاستوں میں ہوتا ہے۔

اتر پردیش میں گزشتہ پانچ برس سے وزیر اعلٰی مایاوتی کی حکومت رہی ہے اور یہاں ہر شخص کو بس ایک ہی شکوہ ہے کہ ریاست بدعنوانی اور رشوت کے شکنجے میں پوری طرح جکڑی ہوئی ہے۔ لکھنؤ کے ایک نوجوان تاجر شمیل شمسی کہتے ہیں ’یہاں ایمانداری سے کوئی سرکاری کام کرانا ناممکن ہو چکا ہے۔‘

ایک ایسے وقت میں جب ملک کی دیگر ریاستیں تیزی سے ترقی کر رہی ہیں۔ اتر پردیش یا یو پی کی حالت خراب ہوئی ہے۔ صنعتیں ختم ہو رہی ہیں۔ بجلی کی فراہمی تباہ حال ہے۔ بنیادی ڈھانچہ نہ ہونے کے برابر ہے اور تعلیمی ادارے فرسودگی کا شکار ہیں۔

آج حالت یہ ہے کہ بیس کروڑ کی آبادی والی اس ریاست کی کسی یونیورسٹی کے کسی گریجویٹ کو ریاست میں نوکری مل جانے کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔

ایک ایم بی اے ذیشان مہدی کہتے ہیں ’سرکاری نوکری بڑی رشوت دیے بغیر مل نہیں سکتی اس لیے نجی سیکٹر میں چھوٹی نوکری کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔‘

شمیل شمسی کہتے ہیں کہ حکومت ایک پارک کی تعمیر پر اربوں روپے صرف کرنے کے لیے تیار ہے لیکن بند ہوتی ہوئی ان فیکٹریوں کو بحال کرنے میں اسے کوئی دلچسپی نہیں ہے جن سے سینکڑوں خاندانوں کی روزی منسلک ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’یہ معمولی بات نہیں ہے کہ اس ریاست میں ایک دلت رہنماء چار بار ریاست کی وزیر اعلٰی بنی‘

یوپی کی موجودہ تباہ حالی کے لیے سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر الزام لگاتی رہی ہیں۔ روزنامہ ’ہندوستان ٹائمز‘ کی ریذیڈنٹ ایڈیٹر سونیتاایرن کہتی ہیں کہ اتر پردیش کئی دہائیوں سے ذات پات اور مذہب کی سیاست میں الجھا رہا ہے اور یہ سیاست اس کی مصیبت کا ہالہ بن گیا ہے۔

’بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں کوئی کرشماتی رہنماء بھی نہیں ہے۔ کانگریس، بی ایس پی اور سماجوادی پارٹی، سب ہی جماعتیں ایک جیسی ہیں۔ مجھے آئندہ پانچ دس برس تک کوئی امید نظر نہیں آتی۔‘

لیکن سرکردہ تجزیہ کار ویرندر ناتھ بھٹ کا کہنا ہے کہ ملائم سنگھ یادو کی سماجوادی پارٹی اور مایاوتی کی بہوجن سماج پارٹی نے اتر پردیش کو ’برہمنوادی نظام‘ کی گرفت سے نکالنے میں بہترین کردار ادا کیا۔ اعلٰی ذاتوں کی اجارہ داری توڑنے میں دوسری ریاستوں میں سو برس لگے ہیں۔ یہ کا م مایاوتی اور ملائم سنگھ یادو نے یہاں بیس برس میں کر دکھایا ہے۔ پوری ملک میں یہ کہیں اور آج تک ممکن نہیں ہو سکا ہے۔‘

اتر پردیش کی چار سو تین رکنی اسمبلی کے لیے کئی مرحلوں میں ووٹ ڈالے جائیں گے۔ اس بار انتخابات میں اصل موضوع بد عنوانی اور ترقی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ریاست کے عوام کھوکھلے نعروں سے تنگ آ چکے ہیں اور وہ حقیقی تبدیلی کے خواہاں ہیں۔ تجزیہ کار ویرندر بھٹ کہتے ہیں کہ اتر پردیش اس وقت سیاسی تغیر سے گزر رہا ہے اور آنے والے دنوں میں وہی جماعت سیاسی دوڑ میں رہ پائے گی جو ایک بہتر نظام دے سکے گی۔

اسی بارے میں