’مندر نہ مسجد، روٹی ہے اصل مسئلہ‘

رام مندر کا خاکہ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بھارتیہ جنتا پارٹی نے کہا ہے کہ وہ ایودھیا میں مندر بنائے گا

ایودھیا فیض آباد بھارت کی سیاست پر گزشتہ بیس برس سے اثر انداز رہے ہیں۔

اتر پردیش میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں اور اس خطے میں انتخابی سرگرمیاں زوروں پر ہیں۔

کبھی ریاست کا دارالحکومت رہنے والا یہ خطہ اس وقت بد ترین پسماندگی کا شکار ہے ۔

لکھنؤ سے پہلے فیض آباد نوابین کے عہد میں صوبہء اودھ کا دارالحکومت ہوا کرتا تھا آج یہ شہرجدید اتر پردیش کا اجڑا دیار ہے۔

مقامی صحافی راجندر پانڈے کہتے ہیں کہ یہاں کی مقامی قیادت اور یو پی کی سیاست دونوں ہی اس حالت کے ذمےدار ہیں۔

فیض آباد میں بیجوں کی ملک کی سب سے بڑی منڈی ہوا کرتی تھی وہ یہاں سے منتقل ہو گئی۔ جہاں جوتے اور کانچ کا بہت بڑا کاروبار ہوا کرتا تھا وہ جدید ڈھانچے اور بجلی نہ ہونے کے سبب تباہ ہو گئیں۔

رام مندر اور بابری مسجد کے تنازعے کے بعد گزشتہ بیس برس سے بی جے پی کے رہنما للو سنگھ یہاں سے رکن اسمبلی ہیں۔ لیکن ان کا کہنا ہے خطے کی بدحالی کے لیے ملائم سنگھ اور مایا وتی ذمے دار ہیں۔

’یہی لوگ پانچ برس سے اقتدار میں ہیں وہ اس علاقے کی ترقی کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہیں۔ میں نے تو اس علاقے کی سڑکوں کی تعمیر اور ہر جگہ بجلی پہنچانے میں کافی کام کیا ہے۔‘

للو سنگھ کو اس بار اصل چیلنج سماجوادی پارٹی کے تیس سالہ تیج نارائن سنگھ سے ہے۔’ یہ پرانی سوچ کے لوگ ہیں۔ان کے پاس ترقی کا کوئی تصور نہیں ہے ۔دو تین نالیاں بنوا دینے اور دو چار جگہ سڑکیں صحیح کرا دینے کو ہی یہ ترقی سمجھتے ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ یہ ذارئع ابلاغ کا دور ہے اور یہاں کے لوگ بھی ایک بہتر مستقبل اوربہتر زندگی کے خواہاں ہیں اور اس کے لیے وہ کسی کی مدد کے بغیر جدوجہد کر رہے ہیں۔ وہ فرسودہ سیاست سے تنگ آچکے ہیں۔

ایودھیا فیض آباد کا جب ذکر آتا ہے تو اسے پچھلے بیس برس سے رام مندر اور بابری مسجد کے تنازعے کے حوالے سے جانا جاتا رہا ہے تاہم اس تنازعے سے الگ ایودھیا کا ہندو مذہب اور ثقافت میں انتہائی اہم مقام حاصل ہے۔

ایودھیا کے ایک دانشور مہنت رگھوورشرن کہتے ہیں’ایودھیا ہندو تہذیب اور مذہب کی روح ہے لیکن بد قسمتی سے یہ اب تک کھوکھلے نعروں اور ٹکراؤ کی سیاست کی بھینٹ چڑھتی رہی ہے۔ ہندو ثقافت میں اس نگری کی وہی اہمیت ہے جو عیسائیوں کے لیے ویٹیکن اورمسلمانوں کے لیے مکہ کی ہے لیکن اسے سبھی نے نظر انداز کیا ہے۔‘

بی جے پی نے اپنے انتخابی منشورمیں رام مندر تعمیر کرنے کی بات کی ہے لیکن فیض آباد کے سرکردہ سیاست دان جے شنکر پانڈے کا کہنا ہے کہ مندر مسجد کا یہ تنازعہ اب دم توڑ چکا ہے ۔

’یہاں اصل مسلہ ترقی ہے نئی نسل کو مندر اور مسجد کے تنازعےمیں دلچسپی نہیں ہے اسے روٹی کی فکر ہے ، آگے جانے کی فکر ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ اگر مندر مسجد کے تنازعے پر سیاست نہ کی گئی ہوتی تو یہ مسئلہ مقامی لوگ کب کا حل کر چکے ہوتے بقول ان کے ’اہل دانش نے بہت سوچ کے الجھائی ہے۔‘

فیض آباد ایودھیا میں انتخابی سرگرمیاں اس وقت زوروں پر ہیں۔ خطے کی ترقی ہی یہاں سب سے بڑا موضوع ہے ۔ مسلسل بیس برس تک اسمبلی کے رکن رہنے والے بی جے پی کے للو سنگھ کواس بار یقینآ زبردست چیلنج کا سامنا ہے۔

اسی بارے میں