مغربی بنگال:دو اضلاع میں 115 بچوں کی موت

مالدہ ہسپتال تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مغربی بنگال میں بچوں کی اموات کا سلسلہ گزشتہ کئی مہینوں سے جاری ہے

مغربی بنگال کے دو اضلاع مالدہ اور مرشدآباد میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج نوزائیدہ بچوں کی اموات کی تعداد ایک سوپندرہ سے زیادہ ہوگئی ہے۔

خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق مرشدآباد کے بہرام پور سرکاری ہسپتال میں گزشتہ چوبیس گھنٹے میں پانچ بچوں کی موت ہوئی۔

ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق دونوں اضلاع مالدہ اور مرشدآباد کے ہسپتالوں کو ملا کر اس ماہ ایک سو پندرہ سے زیادہ بچوں کی اموات ہوئی ہیں۔

مغربی بنگال میں بی بی سی کے نامہ نگار امیتابھ بھٹاسالی کا کہنا ہے کہ مالدہ میں گزشتہ دس دن کے دوران پچاس سے زیادہ بچوں کی اموات ہوئیں۔

مرشدآباد کے چیف میڈیکل افسر شاہ جہاں سراج کا کہنا ہے کہ بہرام پور سرکاری ہسپتال میں مرنے والے بچوں کو گاؤں کے سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹروں کی تجویز پر بہرام پور ہسپتال بھیجا گیا تھا۔ ان میں سے بیشتر بچے سانس کی بیماری، کم وزن اور بھوک کا شکار تھے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ مرنے والے بچوں کی عمر دو دن سے لے کر تین ماہ کے درمیان تھی۔

پی ٹی آئی نے شاہ جہاں سراج کے حوالے سے بتایا کہ بہرام پور ہسپتال میں سہولیات کی کمی ہے اور وہاں روزانہ تقریباً سو سے زیادہ بچوں کو علاج کے لیے داخل کرایا جارہا ہے جبکہ ہسپتال میں صرف بیس بیڈ ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق چیف میڈیکل افسر نے بچوں کی اموات کے لیے کم عمری میں شادی کے رواج کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

ان کے مطابق کم عمری میں ماں بننے والی خواتین کم وزن کے کمزور بچوں کو جنم دے رہی ہیں۔

مغربی بنگال کے وزیرِ صحت چندرما بھٹاچاریے نے کہا ہے کہ ریاست میں انکی پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد بچوں کی اموات کی شرح میں تین فی صد کمی آئی ہے۔

گزشتہ برس نومبر میں مالدہ کے مرکزی ہسپتال میں چھ دن میں پچیس بچوں کی موت واقع ہوئی تھی۔

طبی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ بچوں کو علاج کے لیے دور دراز کے علاقوں سے لایا جاتا ہے اور انہیں وقت پر صحیح علاج مہیا نہیں ہوتا۔

اطلاعات ہیں کہ عام طور پرگنجائش سے زیادہ مریض داخل کر لیے جاتے ہیں اور چونکہ بستروں کی کمی ہے اس لیے بہت سے بیمار بچے جنہیں بستر نہیں مل پاتا وہ فرش پر ہی پڑے رہتے ہیں۔

اسی بارے میں