’مودی کی پیشی کی ضرورت نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption فسادات میں ہندؤں نے مسلمانوں کو زبردست نقصان پہنچایا تھا

گجرات کی ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں کہا ہے کہ وزیراعلی نریندر مودی کو فسادات کی تفتیش کرنے والے ناناوتی کمیشن کے سامنے پیش ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ’دو ہزار دو کے فسادات کے کیسز سے متعلق وزیراعلی نریندر مودی کو طلب کرنے یا پھر ان پر جرح کرنے کی ضرورت نہیں ہے‘۔

فسادات کے متاثرین کے لیے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم جن شنگھرش منچ نے ہائی کورٹ میں درخواست دی تھی کہ فسادات سے متعلق پوچھ گچھ کے لیے کمیشن کو چاہیے کہ وہ وزیراعلی نریندر مودی کو بھی طلب کرے۔

فسادات کے متاثرین نے بھی اپنے وکلاء کے ذریعے مطالبات کیے تھے کہ نریندر مودی کو کمیشن کے سامنے پیش ہوکر فسادات کے متعلق جواب دینا چاہیے لیکن ہائی کورٹ نے اس عرضی کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حق کمیشن کو حاصل ہے کہ وہ تفتیش کے لیے کس کو طلب کرتا ہے اور کس کو نہیں۔

جن سنگھرش منچ کے وکیل مکل سنہا نے ہائی کورٹ کے فیصلے پر اپنے رد عمل میں کہا کہ وہ اب سپریم کورٹ میں اس فیصلے کو چيلنج کریں گے۔

بھارت کی مغربی ریاست گجرات میں دو ہزار دو کے فرقہ وارانہ فسادات کے حوالے سے وزیراعلی نریندر مودی پر ایسے الزامات لگتے رہے ہیں کہ انہوں نے مسلمانوں کے قتل عام کو روکنے کے دانستہ طور پر موثر اقدامات نہیں کیے تھے۔

ناناوتی کمیشن گجرات فسادات کی تقریبا ایک عشرے سے تفتیش کر رہا ہے اور اگر نریندر مودی اس کمیشن کے سامنے پیش ہوتے تو متاثرین کے وکلاء بھی ان پر جرح کر سکتے تھے اور انہیں بعض مشکل سوالات کے جوابات دینے پڑتے۔

جہاں غیر سرکاری تنظیمیں مودی کو طلب کرنے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں وہی کمیشن کا موقف یہ رہا ہے کہ وہ اگر اسے ضرورت پڑے گي تو وہ اس بارے میں سوچےگا۔

فروری دو ہزار دو میں گجرات میں گودھرا کے پاس سابرمتی ٹرین کے ایک ڈبّے میں مبینہ طور پر بعض مسلم گروپوں کی جانب سے آگ لگا دی گئي تھی جس میں ساٹھ کے قریب کار سیوک ہلاک ہوگئے تھے۔

اسی کے بعد مسلم مخالف فسادات بھڑک اٹھے تھے جس میں تقریبا دو ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے جس میں سے بیشتر مسلم تھے۔

ان فسادات کی تفتیش دس برس سے جاری ہے اور متاثرین آج بھی انصاف کے لیے عدالتوں کے چکر لگارہے ہیں۔

اسی بارے میں