ٹوجی مقدمہ:’ فیصلہ حکومت کےخلاف نہیں‘

کپل سبل تصویر کے کاپی رائٹ PIB
Image caption کپل سبّل نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے

بھارت کے مرکزی وزیر مواصلات کپل سبّل کا کہنا ہے کہ ٹو جی معاملے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ یو پی اے کی حکومت کے خلاف نہیں ہے۔

سپریم کورٹ نے ٹو جی سپیکٹرم کو جاری کیےگئے تمام لائسنز کو غیر قانونی بتا کر انہیں منسوخ کر دیا ہے اور اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے اس سے حکومت کے فیصلوں پر سوال اٹھتے ہیں۔

لیکن کپل سبّل نے کہا کہ سپریم کورٹ نے نہ تو اس وقت کے وزیر خزانہ پی چدامبرم اور نہ ہی وزیر اعظم کے خلاف کوئی تبصرہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا:’ہم اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ عدالت نے اس سلسلے میں پالیسی واضح کر دی ہے کہ بھارت میں سپیکٹرم کے لائسنز صرف نیلامی کے ذریعے ہی جاری کیے جائیں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ پہلے کی پالیسی واجپائی کی حکومت نے وضع کی تھی جس پر موجودہ حکومت بھی عمل پیرا تھی اس لیے پالیسی سازی میں غلطی بی جے پی کی حکومت نے کی تھی۔

ان کا کہنا تھا:’عدالت نے لائسنز کے اجراء کو قرار دیا ہے اور اس کے لیے اس وقت کے وزیر کو قصوروار ٹھہرایا ہے نہ کہ حکومت کو۔‘

دو ہزار آٹھ میں جب اس وقت کے وزیر مواصلات اے راجہ نے ٹو جی سپیکٹرم کو لائسنز جاری کیے تھے تو اس وقت پی چدامبرم وزیر خزانہ تھے۔

اپوزیشن پارٹیوں کا کہنا ہے کہ چونکہ دونوں وزارتیں صلاح و مشورہ کر کے فیصلہ کرتی ہیں اس لیے پی چدامبرم کو بھی اس کا ذمہ دار ٹھہرانا چاہیے اور انہیں فورا استعفی دے دینا چاہیے۔

لیکن کپل سبّل نے کہا کہ لائسنز جاری کرنے میں مسٹر چدامبرم کبھی بھی شامل نہیں تھے۔’سپریم کورٹ نے بڑے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ اس میں وزارت خزانہ کی کوئی غلطی نہیں ہے۔ وزارت خزانہ نے جو رائے دی تھی اسے تسلیم نہیں کیا گيا۔‘

اسی بارے میں