عمر کا تنازع:حکومت کے فیصلے پر سوال

وی کے سنگھ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption وی کے سنگھ پہلے فوجی سربراہ ہیں جنہوں نے حکومت کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کیا ہے

بھارت کی سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے دریافت کیا ہے کہ کیا وہ فوج کے سربراہ وی کے سنگھ کی تاریخ پیدائش پر اپنا وہ فیصلہ واپس لینے کے لیے تیار ہے جس میں جنرل سنگھ کی اس درخواست کو مسترد کر دیا گیا تھا کہ ان کی پیدائش کا سال انیس سو پچاس کے بجائے انیس سو اکیاون مانا جانا چاہیے۔

حکومت کے اس فیصلے کے خلاف جنرل وی کے سنگھ نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

جنرل سنگھ کا دعویٰ ہے کہ فوج میں بھرتی کے وقت ایک فارم میں ان کی تاریخ پیدائش غلطی سے دس مئی انیس سو پچاس لکھی گئی تھی جبکہ جب ان کی پیدائش کا صحیح سال انیس سو اکیاون ہے۔

سپریم کورٹ نے پٹیشن کی سماعت دس فروری تک ملتوی کر دی ہے اور اس دوران اٹارنی جنرل کو حکومت سے یہ دریافت کرنے کی ہدایت دی ہے کہ کیا وزارت دفاع جنرل سنگھ کے خلاف اپنا فیصلہ واپس لے سکتی ہے؟

سپریم کورٹ نے سماعت کے دوران یہ بھی کہا کہ جنرل سنگھ کی درخواست مسترد کرنے کے لیے جو طریقۂ کار اختیار کیا گیا تھا اس سے انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوتے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق جنرل سنگھ نے جمعرات کو وزیر خزانہ پرنب مکھرجی سے ملاقات کی تھی لیکن تنازعہ کا حل تلاش کرنے کی راہ میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔

اگر حکومت اپنے فیصلے پر قائم رہتی ہے تو جنرل سنگھ کو مئی میں ریٹائر ہونا پڑے گا۔ لیکن جنرل سنگھ کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنے عہدے کی مدت بڑھوانے کے لیے نہیں بلکہ اپنی عزت و وقار کے لیے لڑ رہے ہیں۔

فوج کی دستاویزات میں جنرل سنگھ کی دو تاریخ پیدائش درج ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ جنرل سنگھ نے تحریری طور پر یہ یقین دہائی کرائی تھی کہ وہ سن پچاس کو ہی اپنی پیدائش کا سال تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں۔

جنرل سنگھ اور حکومت کے درمیان یہ لڑائی میڈیا میں بھی لڑی گئی ہے اور دونوں کے حق میں اور خلاف پابندی کے ساتھ مضامین اور اداریہ شائع ہوتے رہے ہیں۔ مقدمے کی سماعت سے پہلے یہ قیاس آرائی جاری تھی کہ حکومت اور جنرل سنگھ کے درمیان مفاہمت ہوسکتی ہے لیکن ایسا ہوا نہیں۔

بہت سے قانونی ماہرین کا خیال تھا کہ سپریم کورٹ اس پٹیشن کو سننے سے انکار کرسکتی ہےاور جنرل سنھگ کو ہدایت دے سکتی ہے کہ وہ مسلح افواج کے ٹرائبیونل سے رجوع کریں۔ لیکن عدالت نے کہا کہ ٹرائبیونل میں جنرل سنگھ سے جونئر افسر بیٹھتے ہیں لہذا وہاں مفادات کا تضاد ہوسکتا ہے۔ سپریم کورٹ میں پٹیشن کی سماعت کے بعد قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ اس جنگ کا پہلا دور جنرل سنگھ نے جیت لیا ہے۔

اسی بارے میں