خلائی سائنسدانوں کیخلاف کارروائی کی سفارش

مادھون نائر تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مادھون نائر کا شمار بھارت کے سرکردہ رہنماؤں میں ہوتا ہے

بھارت کے خلائی تحقیقی ادارے اسرو نے انٹرکس اور دیواس کمپنی کے درمیان معاہدے سے متعلق اپنی تفتیشی رپورٹ جاری کر دی ہے جس کے مطابق اس معاہدے میں کئی خامیاں پائی گئي ہیں۔

تفتیشی کمیٹی نے ان خامیوں کے لیے ملک کے سرکردہ سائنس داں مادھون نائر سمیت تین دیگر سائنس دانوں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

تفتیشی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں اسرو کے سابق سربراہ جی مادھون نائر، اے بھاسکرن نائرنا، کے آر سری دھارا اور کے این شنکرا کے خلاف کارروائی کرنے کی سفارش کی ہے۔

چاند پر بھارت کا ’چندریان یکم‘ کے نام سے معروف، جو پہلا انسانی مشن پہنچا تھا اس کی کامیابی کا سہرا مادھون نائر کے سر ہے اور وہ ملک کے سرکردہ سائنس دان ہیں۔

انٹرکس بھارت کے خلائی ادارے اسرو کی کمرشیل برانچ ہے اور اس پر ایک برس قبل یہ الزام عائد کیا گيا تھا کہ دیواس کمپنی کے ساتھ انٹرکس نے جو معاہدہ کیا تھا اس سے انٹرکس کو نقصان اور دیواس کو فائدہ پہنچا تھا۔

انٹرکس اور دیواس کے درمیان سنہ دو ہزار پانچ میں معاہدہ ہوا تھا اور بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آنے کے بعد گزشتہ مئی میں وزیراعظم منموہن سنگھ نے تفتیش کے احکامات دیے تھے۔

پرتیوش سنہا کی قیادت میں پانچ رکنی تفتیشی ٹیم کی رپورٹ پہلی بار گزشتہ رات جاری کی گئی تھی۔

اس رپورٹ میں کہا گيا ہے ’اس میں سنگین قسم کی انتظامی خامیاں ہیں اورطریقۂ کار بھی درست نہیں۔ بعض افراد کی طرف سے کوتاہیاں برتی گئیں اس لیے انہیں ذمہ دار قرار دینا اور ان کے خلاف کارروائی کرنا ضروری ہے۔‘

بھارتی خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انٹرکس اور دیواس کے درمیان ہوئے معاہدے میں شفافیت نہیں برتی گئي اس لیے ان سائنس دانوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

اس رپورٹ کے جاری کرنے سے پہلے حکومت نے اپنی طرف سے کارروائی کرتے ہوئے مادھون نائر سمیت دوسرے سائنس دانوں پر حکومت کے کسی بھی عہدے پر فائز رہنے پر پابندی عائد کر دی تھی۔

مادھون نائر نے اس رپورٹ کو درست قرار نہیں دیا ہے اور کہا ہے کہ اس میں حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گيا ہے۔

اسی بارے میں