یوراج کے لیے دعائیں، ہمدردی کی لہر

یوراج سنگھ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یوراج سنگھ نے بھارت کو عالمی کپ جیتنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

بھارت کے سٹار کرکٹر یوراج سنگھ کے لیے پورے ملک میں زبردست ہمدردی کے جذبات پائے جاتے ہیں۔

یوراج کینسر کے مرض کی تشخیص کے بعد اس وقت امریکہ میں زیر علاج ہیں۔

یوراج کو پھیپھڑے میں کینسر ہے اور امریکہ کے باسٹن شہر کے ایک ہسپتال میں ان کی کیمو تھریپی کی جا رہی ہے۔

ان کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں نے بتایا ہے کہ یوراج دس ہفتے میں پریکٹس شروع کرنے کی حالت میں آ جائیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ یوراج کا کینسر ’سیمی نوما‘ پوری طرح قابل علاج ہے اور اس کے دوبارہ ہونے کے امکانات بہت ہی کم ہوتے ہیں۔

تاہم ڈاکٹروں نے اس کے دوبارہ نہ ہونے کو خارج از امکان نہیں قرار دیا ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ امریکہ میں یوراج کے علاج کا خاطر خواہ اثر ہو رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یوراج سنگھ کو تیزی کے ساتھ رن بنانے کے لیے جانا جاتا ہے۔

تیس سالہ کرکٹر کو گذشتہ ہفتے علاج کے لیے امریکہ لے جایا گیا ہے۔

ان کے والد یوگ راج سنگھ نے چنڈی گڑھ میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوۓ کہا کہ یوراج کے مرض کی تشخیص پہلے ہو گئی تھی لیکن علاج شروع کرنے میں تاخیر کی گئی۔ یہ کہتے ہوئے وہ جذباتی ہو گئے۔

یوراج سنگھ نے گذشتہ سال کرکٹ کے عالمی کپ میں 362 رنز بنائے اور پندرہ وکٹیں بھی لی تھیں۔ انھیں چار بار مین آف دی میچ قرار دیا گیا تھا۔ انہیں ’پلیئر آف دی ٹورنامنٹ‘ کے اعزاز سے نوازا گیا تھا۔

یوراج کے پھیپھڑوں کے ٹیومر کے بارے میں ابتدائی طور پر بتایا گیا تھا کہ اس میں کینسر نہیں ہے۔

لیکن اتوار کو کینسر کی خبر آتے ہی ملک میں یوراج کے لیے ہمدردی کے جذبات امنڈ آئے ہیں۔

فلم انڈسٹری سے لیکر عام آدمی تک سبھی یوراج کی صحتیابی کے لیے دعا کر رہے ہیں۔

بی سی سی آئی اور حکومت دونوں نے کہا ہے کہ وہ یوراج کے علاج کے تمام اخراجات برداشت کریں گے۔

ہربھجن سنگھ نے ٹوئٹر پر لکھا ہے ’وہ ایک جرات مند انسان ہیں اور وہ اس کا مقابلہ کرنے کی سکت رکھتے ہیں۔‘

فلم اداکار امیتابھ بچن نے ٹوئٹ کرتے ہو‎ئے لکھا ہے: ’ہم سبھی یوراج کی صحتیابی کے لیے دعا کر رہے ہیں۔‘

کشمیر اور گجرات کے وزیراعلی نے بھی یوراج کی صحتیابی کے لیے دعائیں کی ہیں۔

یوراج کے فیزیو تھراپسٹ نے کہا ہے مارچ کے اواخر میں یوراج کا ایک سٹی سکین کیا جائے گا اور اس وقت تک وہ صحتیاب ہو چکے ہوں گے۔

اس کے بعد انھیں آرام کی ضرورت ہوگی اور وہ ایک بار پھر مئی میں کرکٹ کے میدان میں ہوں گے۔

اسی بارے میں