’گجرات فسادات کی رپورٹ فراہم کی جائے‘

گجرات فسادات کا منظر تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption احمدآباد کی گلبرگ سوسائٹی میں فسادادت کے دوران کانگریس کے سابق رکن پارلیمان احسان جعفری سمیت انہتر افراد کو قتل کردیا گیا تھا۔

بھارت کی ریاست گجرات میں سماجی کارکنوں اور مقتول رکن پارلیمان کی بیوہ نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ انہیں گجرات فسادات کیس پر تفتیشی ٹیم کی رپورٹ کی نقل فراہم کی جائے۔

واضح رہے کہ بھارت کی سپریم کورٹ نےاس کیس کی تفتیش کے لیے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی تھی جس نے اپنی رپورٹ بدھ کو عدالت میں پیش کی ہے۔

اس کے بعد سے ہی یہ قیاس آرائی زور و شور سے جاری ہے کہ تفتیشی ٹیم نے ریاست کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کو ’کلین چٹ‘ دے دی ہے۔ لیکن ابھی یہ رپورٹ عام نہیں کی گئی ہے اور اس خبر کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہے۔

احمدآباد کی گلبرگ سوسائٹی میں فسادات کے دوران کانگریس کے سابق رکن پارلیمان احسان جعفری سمیت انہتر افراد کو قتل کردیا گیا تھا۔

احسان جعفری کی بیوہ ذکیہ جعفری کا مطالبہ تھا کہ اس کیس میں نریندر مودی اور کئی دیگر اعلیٰ سرکاری افسران کو بھی ملزم بنایا جانا چاہیے۔ بقول ان کے نریندر مودی نے دانستہ طور پر فسادات کو روکنے کی کوشش نہیں کی تھی۔

ذکیہ جعفری نے جب اس سلسلے میں سپریم کورٹ سے رجوع کیا تو عدالت نے اپنی نگرانی میں ایس آئی ٹی سے تفتیش کرانے کا فیصلہ کیا۔

رپورٹ کی نقل حاصل کرنے کے لیے سماجی کارکن تیستا سیتلواد نے بھی عدالت سے رجوع کیا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ ایس آئی ٹی نے پوری رپورٹ ذیلی عدالت کے سامنے پیش نہیں کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے واضح ہدایت دی تھی کہ ٹیم اپنی رپورٹ یا فرد جرم کے ساتھ تمام دیگر شواہد اور وہ رپورٹ بھی عدالت کے سامنے رکھیں جو سپریم کورٹ کے معاون وکیل راجو رام چندرن نے تیار کی تھی۔ اس رپورٹ میں نامزد افراد پر مقدمہ چلانے کی سفارش کی گئی تھی۔

تیستا سیتلواد نے کہا ’ہمارا خیال ہے کہ پوری رپورٹ پیش نہیں کی گئی ہے۔ ہم نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ اس رپورٹ کو، جو بند لفافے میں پیش کی گئی ہے، کھولے اور یہ دیکھے کہ رپورٹ سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق ہے یا نہیں۔‘

اس معاملے کی آئندہ سماعت تیرہ فروری کو ہوگی۔

اسی بارے میں