عمر کا تنازع، حکومت نے فیصلہ واپس لے لیا

وی کے سنگھ
Image caption وی کی سنگھ

بھارتی حکومت نے فوج کے سربراہ جنرل وی کے سنگھ کی عمر سے متعلق اپنا تیس دسمبر کا فیصلہ واپس لے لیا ہے جس کی قانونی حیثیت پر سپریم کورٹ نے سوال اٹھایا تھا۔

سپریم کورٹ جنرل سنگھ کی اس پیٹیشن کی سماعت کررہی ہے کہ انکی تاریخ پیدائش دس مئی انیس سو پچاس کے بجائے دس مئی انیس سو اکیاون تسلیم کی جائے۔

لیکن حکومت کے فیصلے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس نے جنرل وی کے سنگھ کا مطالبہ تسلیم کرلیا ہے۔

سپریم کورٹ میں جنرل سنگھ کی پٹیشن کی سماعت ابھی بھی جاری ہے۔

اس سے قبل سپریم کورٹ نے پٹیشن کی سماعت دس فروری تک ملتوی کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کو حکومت سے یہ دریافت کرنے کی ہدایت دی تھی کہ کیا وزارت دفاع جنرل سنگھ کے خلاف اپنا فیصلہ واپس لے سکتی ہے؟

سپریم کورٹ کا موقف تھا کہ تاریخ پیدائش کے سلسلے میں جب جنرل سنگھ نے پہلی مرتبہ حکومت سے رجوع کیا تھا تو حکومت نے اٹارنی جنرل کے مشورے پر انکی درخواست مسترد کردی تھی۔ لیکن جب جنرل سنگھ نے اس فیصلے کو چلنیج کیا تو انکی اس اپیل کو بھی اٹارنی جنرل کے ہی مشورے پر مسترد کردیا گیا۔

سپریم کورٹ نے سماعت کے دوران کہا تھا کہ جنرل سنگھ کی درخواست مسترد کرنے کے لیے جو طریقۂ کار اختیار کیا گیا تھا اس سے انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوتے کیونکہ انکی اپیل کو بھی اٹارنی جنرل کے مشورے پر مسترد کیا گیا جبکہ وہ جنرل سنگھ کی پہلی درخواست پر بھی انکے خلاف مشورہ دے چکے تھے۔

حکومت کے اس فیصلے کے خلاف جنرل وی کے سنگھ نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

اٹارنی جنرل جی ای وہانوتی نے جمعہ کو حکومت کے اس فیصلے کے بارے سپریم کورٹ کو مطلع کیا۔

جنرل سنگھ کا دعویٰ ہے کہ فوج میں بھرتی کے وقت ایک فارم میں ان کی تاریخ پیدائش غلطی سے دس مئی انیس سو پچاس لکھی گئی تھی جبکہ جب ان کی پیدائش کا صحیح سال انیس سو اکیاون ہے۔

بھارتی فوج کے ریکارڈ میں جنرل وی کے سنگھ کی پیدائش کی دو تاریخیں ملی ہیں۔ ایک جگہ ان کی تاریخ پیدائش 10 مئی 1950 ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ دوسری جگہ ان کی پیدائش کی تاریخ ایک سال کم یعنی 10 مئی 1951 ریکارڈ کی گئی ہے۔

جنرل وی کے سنگھ ایسے پہلے فوجی سربراہ ہیں جنہوں نے حکومت کے موقف کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔

جنرل سنگھ کا کہنا ہے کہ سکول کے زمانے میں ان کا فارم ایک ٹیچر نے بھرا تھا اور انہوں نے ان کی پیدائش کی تاریخ میں غلطی کر دی تھی۔ بعد میں ان کے والد نے میٹرک کا فارم جمع کر کے پیدائش کی تاریخ کی تصحیح کر دی تھی۔ اطلاع کے مطابق جب یہ معاملہ ایک بار اٹھا تو حکومت نے ان کی تاریخ پیدائش 1951 تسلیم کر لی تھی۔

اسی بارے میں