کشمیر میں ویلنٹائن ڈے کے خلاف مہم

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ویلنٹائن ڈے کی مخالفت میں آسیہ اندرابی کے گروپ نے ہوٹل میں چھاپہ مارا

بھارت کے زیر انتظام کشمیری خواتین کی علیٰحدگی پسند تنظیم دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی نے منگل کو سرینگر کے کچھ ریستورانوں اور ہوٹلوں میں جا کر وہاں موجود نوجوان جوڑوں سے ویلنٹائن ڈے نہ منانے کو کہا ہے۔

ان کے بقول ایسا کرکے نوجوان مغربی تہذیب کو فروغ دے رہے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ کشمیر کی ستر لاکھ آبادی میں اڑتالیس فیصد اٹھارہ سے پینتیس سال کی عمر کے نوجوان ہیں۔

سرینگر کے ایک ریستوران میں جب دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی اپنی ساتھی خواتین کے ساتھ پولیس کی موجودگی میں داخل ہوئیں تو وہاں پر کھلبلی مچ گئی لیکن وہاں موجود نوجوانوں نے ان کے ساتھ بحث کی۔

ایک نوجوان کا کہنا تھا کہ وہ جس لڑکی کے ساتھ کھانا کھا رہا تھا اس کے ساتھ شادی بھی کرنا چاہتا ہے۔ مذکورہ نوجوان نے آسیہ اندرابی سے کہا، ’جن مقامات پر غلط کام ہو رہے ہیں آپ وہاں کیوں نہیں جاتے۔ میری دوست کو کل دلّی جانا تھا، کچھ دیر کے لیے ہم ساتھ بیٹھے اور کھانا کھایا‘۔

اس پر آسیہ نے کہا کہ ویلنٹائن ڈے کے موقع پر اگر میاں بیوی بھی کسی تقریب کا اہتمام کریں گے وہ بھی گناہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اسلامی اصولوں کے تحت ایک اخلاقی سماج تعمیر کرنا چاہتی ہیں لیکن بعض نوجوانوں نے مزاحمت کی اور ان کے اس طرز عمل پر اعتراض کیا۔

آسیہ اندرابی پچھلے پچیس سال سے کشمیر میں نظام شریعت کے لیے مہم چلارہی ہیں۔ انہیں دو ہزار چھ میں خواتین کے جنسی استحصال سے متعلق تحریک چلانے کے الزام میں طویل قید بھی ہوئی۔ انہوں نے بھارت کی دوسری ریاستوں میں ہندو گروپوں کے ذریعہ ایسی ہی مہم چلانے کے بارے میں کہا کہ ہر تہذیب بیرونی اثرات سے بچاؤ کے لیے کوشاں ہے۔

واضح رہے کہ کشمیر میں ساڑھے چھ ہزار دارالعلوم ہیں جو بھارتی ادارہ دیوبند کے ساتھ وابستہ ہیں۔ اس کے علاوہ جماعت اسلامی، جمعیت اہلحدیث اور دوسرے مکاتب فکر کی درجنوں مذہبی تنظیمیں ہیں جو اپنے اپنے مذہبی نطریات کے مطابق سماجی اصلاح کے لیے بھی سرگرم ہیں۔

لیکن آسیہ اندرابی کی دختران ملت واحد گروپ ہے جو ہر سال ویلنٹائنز ڈے کے موقع پر شہر کے ریستورانوں کا اچانک معائنہ کرکے ’یومِ محبت‘ کے خلاف ناراضگی کا اظہار کرتی ہے۔

دریں اثنا جماعت اسلامی کے ساتھ وابستہ طلباء تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ نے تیرہ سے اُنیس فروری تک ہفتۂ حیا منانے کا اعلان کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جماعت اسلامی نے اس موقع پر ہفتہ حیاء کا اہتمام کیا ہے

جماعت اسلامی کے ترجمان زاہد علی نے بی بی سی کو بتایا کہ سماجی برائیوں یا مغربی اثرات کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے وہ جبر نہیں بلکہ الگ طریقہ اپناتے ہیں جس میں تبلیغ اور بیداری پیدا کرنے کو ترجیح دی جاتی ہے۔

نفسیاتی امراض کے ماہرین کا کہنا ہے کہ نوجوان جوڑوں پر جبری طور کوئی اخلاقی ضابطہ مسلط کرنے کی کوششوں کا منفی نتیجہ نکل سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کو مقامی سماجی قدروں کو آشنا کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ جس قدر نوجوان جوڑوں پر قدغنیں ہونگی، اسی قدر ان کی خفیہ سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔

اسی بارے میں