’ترقی تعلیم اور روزگار ہی اہم موضوع‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption انتخابی ماحول میں مسلم سماج میں بھی سیاسی بحث عام بات ہے

بھارتی ریاست اترپردیش میں اس بار اسمبلی کے انتخابات میں ترقیات کا موضوع سب سے نمایاں ہے اور مسلم رائے دہندگان کے لیے بھی اب ذات پات یا فرقہ وارنہ مسائل سے زيادہ اہم ان کے ذاتی مسائل ہیں۔

گزشتہ تقریباً دو عشروں سے ریاست کے مسلمانوں کی ووٹنگ کا مقصد کم و بیش ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی کو ہرانے یا پھر کسی خاص برادری کے امیدوار کو جتوانے کا رہا لیکن اس بار ایماندار، بہتر شخصیت اور کام کرنے والا امیدوار ان کی پہلی ترجیح ہے۔

مسلم اکثریتی علاقے مئو میں شہر کے ایک دانشور شاہد جمال کا کہنا ہے کہ یہ ایک مثبت تبدیلی ہے۔ ’سنہ انیس سو بانوے میں بابری مسجد کے انہدام کے بعد کی فکر اور آج کی سوچ میں بہت فرق ہے۔ اس وقت مسلمان اپنے تحفظ کے بارے میں سوچتا تھا اور اب ترقی کے بارے میں سوچتا ہے۔ اس ملک میں جتنی فرقہ پرست طاقتیں کمزور ہوں گی مسلمان اتنا ہی ترقی پسند ہوتا جائیگا۔‘

مئو سے مختار انصاری جیسے امید وار کامیاب ہوتے رہے ہیں جن پر کئی مجرمانہ مقدمے ہیں اور وہ چھ برس سے جیل میں ہیں۔ شاہد جمال کے مطابق اب فضاء بدل رہی ہے اور لوگ تبدیلی چاہتے ہیں۔

یہی فضا بنارس اور آس پاس کے علاقوں کی بھی ہے جہاں مسلم طبقے کی ترجیحات بچوں کی تعلیم، روزگار، بجلی، سڑک، پانی اور صحت جیسی بنیادی ضروریات ہیں۔

شہر کے سینیئر صحافی سلمان راغب کہتے ہیں کہ اب مسلم برادری کو بی جے پی جیسی دائیں بازو کی جماعت سے اتنا خوف نہیں رہا۔ ’یوپی میں فرقہ پرست طاقتیں، جن سے مسلم سماج خوفزدہ تھا، اب وہ خود ہی پسِ پشت جا چکی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عام مسلمان اب فرقہ پرست طاقتوں کی شکست کے بارے میں زیادہ سوچنے کے بجائے ترقیاتی پروگرمز کی طرف متوجہ ہوا ہے۔‘

بنارس میں ہندی روزنامہ جاگرن کے مدیر راگھویندر چڈھا کہتے ہیں کہ اس بار انتخابی مہم میں ترقیاتی موضوعات کو مرکزی سطح پر میں لانے میں سیاسی جماعتوں کا بھی ہاتھ ہے کیونکہ یو پی میں اب رام راجیہ یا ذات پات کی جگہ یہی نعرہ گونج رہا ہے۔

وہ کہتے ہیں ’یہ اچھی تبدیلی ہے لیکن ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ ووٹ میں یہ رجحان کتنا تبدیل ہوتا ہے۔ کئی بار آخر میں لوگوں کو پھر جذباتی مسائل میں الجھا دیا جاتا ہے اور وہ کنفیوژ ہوجاتے ہیں لیکن اس بار مجموعی طور پر عوام کا رجحان جذباتی مسائل نہیں بلکہ ان کی بنیادی ضروریات ہیں۔‘

ماہرین کے مطابق عام طور پر یوپی میں ووٹ کی فیصد کم رہتی ہے اور اگر پچاس فیصد سے زیاد ووٹ پڑیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ رائے دہندگان کے لیے ان کے مسائل اہم ہیں۔

مسٹر چڈھا کے مطابق اب تک دو مرحلے کی پولنگ میں پچاس فیصد سے زیادہ ووٹنگ ہوئی جو اس بات کا اشارہ ہے کہ پارٹی ورکرز کے علاوہ بھی لوگ ووٹ ڈالنے نکلے ہیں جو اچھی بات ہے۔

Image caption مسلمانوں کے لیے تعلیم، صحت اور روزگار جیسے مسائل اہم ہیں

بنارس کے ایک ادیب اور شاعر شاد عباسی کہتے ہیں کہ اس بار ہندو ہو یا مسلمان سبھی کے لیے ’ایماندار اور صاف شبیہ والا امیدوار سب کی پہلی ترجیج ہے اور ذات پات یا مذہب کو کوئی نہیں دیکھ رہا۔''

بنارس، غازی پور، مئو اور اعظم گڑھ جیسے اضلاع میں عام لوگوں سے بات کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ عوام اب ذات پات اور فرقہ پرست سیاست سے تنگ آچکے ہیں۔

بنارس کے باسی گھنشیام مہیشوری کا کہنا تھا ’اس شہر میں ترقی نا ہونے کی وجہ فرقہ پرست سیاست رہی ہے لیکن اس بار حالات بدلے ہوئے ہیں اور اب بات صرف ترقی کی ہورہی ہے اور میری سمجھ سے یہ اچھی بات ہے۔‘

اعظم گڑھ کے بیشتر علاقوں کی انتخابی مہم میں بٹلہ ہاؤس کے انکاؤنٹر کی گونج رہی لیکن وہاں بھی اب حالات بدل رہے ہیں۔

سکول کے ایک استاد اسلم کا کہنا تھا کہ بٹلہ ہاؤس انصاف کی لڑائی ہے اس لیے جب تک انصاف ملتا نہیں اس وقت آواز سنی جائیگي لیکن ’ آج کا نوجوان کئی مسائل سے دو چار ہے اور اسے بہتر تعلیم اور روزگار چاہیے۔ بے روزگاری بہت سے مسائل کو جنم دیتی ہے اور اس کے حل سے بڑے مسائل حل ہوجائیں گے۔‘

سیاسی ماہرین کے مطابق مسلم سماج میں یہ نئی بیداری سیاسی اعتبار سے بڑی اہم ہے اور اس سے سیاسی جماعتیں بھی ان کے جذباتی مسائل اٹھانے کے بجائے ان کی فلاح پر زیادہ توجہ دیں گي۔

اسی بارے میں