معاوضہ نہ دینے پر مودی حکومت کو نوٹس

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption مودی پر متاثرین کو نظرانداز کرنے کے الزام لگتے رہے ہیں

بھارت کی ریاست گجرات میں ہائی کورٹ نے فسادات سے متاثرہ بعض افراد کو معاوضہ نہ دینے کے لیےگجرات حکومت کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا ہے۔

ریاست کی عدالت عالیہ نے فسادات کے متاثرین کو معاوضہ دینے کا حکم گزشتہ برس دیا تھا۔

گجرات ہائی کورٹ نے یہ حکم فساد سے متاثرہ 56 افراد کی درخواست کی سماعت کے بعد جاری کیا ہے۔ ان درخواست گزاروں کی دوکانیں 2002 کے فسادات کے دوران تباہ کر دی گئی تھیں۔

حکومت کی طرف سے کوئی معاوضہ نہ ملنے کے بعدعدالت عالیہ نےگزشتہ برس مودی حکومت کو حکم دیا تھا کہ وہ ان متاثرین کو معاوضہ ادا کرے۔

لیکن ایک برس گزر جانے کے باوجود کوئی معاوضہ نہ ملنے کے بعد ان عرضی گزاروں نےایک بار پھر عدالت سے رجوع کیا، عدالت نے ان کی عرضی کی سماعت کے بعد مودی حکومت کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔

گجرات ہائی کورٹ کی طرف سے یہ نوٹس ایک ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے جب ابھی گزشتہ ہفتے ہی عدالت نے ریاستی حکومت کو حکم دیا تھا کہ وہ فسادات کے دوران تباہ کی گئیں پانچ سو سے زیادہ مساجد، مقبروں، درگاہوں اور مندروں کی مرمت اور تعمیر نو کے لیے معاوضہ ادا کرے۔

ریاستی حکومت کا کہنا تھا کہ چونکہ عبادت گاہوں کی تعمیر کی ذمے داری حکومت کی نہیں ہے اور ان کی مرمت یا تعمیر نو کے لیے سرکاری پیسے کا استعمال نہیں کیا جا سکتا اس لیے اس نے معاوضہ دینے سے اجتناب کیا تھا۔

لیکن عدالت کا کہنا تھا کہ امن و قانون کی عملداری اور شہریوں اور ان کی عبادت گاہوں کے تحفظ کی ذمےداری حکوت کی ہے جس میں اس نے غفلت کا ثبوت دیا ہے۔

اسی بارے میں