’اجمل قصاب پر کبھی تشدد نہیں کیا گيا‘

اجمل امیر قصاب تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اجمل قصاب ممبئی کی آرتھر روڈ جیل میں قید ہیں

بھارتی ریاست مہاراشٹر کی حکومت نے اس الزام کی تردید کی ہے کہ ممبئی پر حملے کے واحد زندہ بچ چانے والے پاکستانی ملزم محمد اجمل قصاب کے خلاف مقدمےکی سماعت منصفانہ نہیں تھی لہذا انہیں سزائے موت نہیں دی جانی چاہیے۔

سزائے موت کے خلاف سپریم کورٹ میں اجمل قصاب کی اپیل کی سماعت کے دوران حکومت مہارشٹر کے وکیل گوپال سبرامنیم نے کہا کہ نہ قصاب کو کبھی ایذائیں دی گئیں، نہ ان کے ساتھ کوئی بدسلوکی ہوئی اور نہ ان ہی ان کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی کی گئی۔

انہوں نے جسٹس آفتاب عالم اور جسٹس سی کے پرساد پر مشتمل بنچ کو بتایا کہ قصاب کو (قانونی عمل کے اختتام پر) سزائے موت سنائی گئی تھی جس کی دستورِ ہند اجازت دیتا ہے۔

مسٹر سبرامنیم نے اجمل قصاب کے وکیل راجو رام چندرن کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر قصاب کو زندہ گرفتار نہ کیا گیا ہوتا تو کبھی یہ معلوم نہیں ہوتا کہ حملہ آور ملک کے باہر سے آئے تھے۔

منگل کو قصاب نے عدالت سے اپیل کی تھی کہ ان کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا جائے۔ مسٹر رام چندرن کا کہنا تھا کہ قصاب ملک کے خلاف جنگ چھیڑنے کی وسیع تر سازش کا حصہ نہیں تھے۔

انہوں نے کہا کہ عدالت کو قصاب کی عمر کو بھی مد نظر رکھنا چاہیے، جو صرف چوبیس سال ہے، اور اس بات کو بھی کہ انہیں اس سازش میں ان کے مذہبی عقیدے کا استحصال کر کے شامل کیا گیا تھا۔

قصاب کے وکیل کا کہنا ہے کہ استغاثہ نے بھرپور انداز میں ان کے خلاف الزامات ثابت نہیں کیے ہیں اور یہ کہ ذیلی عدالتوں میں سماعت کے دوران انہیں ایک اچھے وکیل کے ذریعہ اپنا دفاع کرنے کا موقع نہیں دیا گیا تھا۔

اپنے پٹیشن میں قصاب نے کہا تھا کہ ’ انہیں اس جرم پر مائل کرنے کے لیے ایک روبوٹ کی طرح برین واش کیا گیا تھا اور ان کی کم عمر کو دیکھتے ہوئے انہیں سزائے موت نہیں دی جانی چاہیے‘۔

نومبر سنہ دو ہزار آٹھ میں دس شدت پسندوں نے ممبئی پر حملہ کیا تھا اور تقریباً تین دن جاری رہنے والی اس کارروائی میں ڈیڑھ سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

حملہ آوروں میں سے اجمل امیر قصاب ہی زندہ پکڑے گئے جبکہ باقی سب مقابلے میں مارے گئے تھے۔ اجمل امیر قصاب تب سے ممبئی کی آرتھر روڈ جیل میں قید ہیں۔

اسی بارے میں