ہم جنس پرستی غیر فطری کیسے؟ سپریم کورٹ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کئی مذہبی اور سماجی تنظمیں ہم جنس پرستی کے خلاف مہم چلا رہی ہیں

بھارتی سپریم کورٹ نے ہم جنس پرستی کے خلاف مہم چلانے والی تنظیموں سے پوچھا ہے کہ وہ بتائیں آخر ہم جنس پرستی غیر فطری عمل کیسے ہے۔

اس سلسلے میں ایک عرضی پر سماعت کے دوران عدالت نے کہا ہے کہ گزشتہ ساٹھ برسوں میں آئین کے معنی و مطالب بدلتے رہے ہیں اور اس مسئلے کو بھی اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔

بھارت میں ایک قدیم قانون کے مطابق ہم جنس پرستی ایک قابل جرم فعل ہے جس پر سزا ہوسکتی ہے۔

لیکن گزشتہ برس دلی ہائی کورٹ نے ہم جنس پرستی سے متعلق ایک اہم مقدمہ کی سماعت کے بعد اسے مجرمانہ فعل کے زمرے سے ہٹا دیا تھا۔

اسی فیصلے کے خلاف ملک کی کئی مذہبی اور سماجی تنظیموں نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی ہے اور اس میں ہم جنسی کو ایک غیر فطری عمل بتا کر ہائی کورٹ کے فیصلے کو ختم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

سپریم کورٹ کی دو رکنی بینچ نے سماعت کے دوران تنظیموں کے وکیل امریندر سرن سے پوچھا ’ہم جنسی کیا ہے؟۔ وہ کون ماہر ہے جو یہ طے کرے گا کہ کونسا فطرتی عمل ہے اور کونسا غیر فطری ہے؟‘

بینچ نے اس پر مزید سوال اٹھاتے ہوئے کہا ’کیا سروگیٹ مائیں ( کرائے پر مادر رحم دینے والی خواتین) اور ٹیوب کے ذریعے پیدا ہوئے والے بچے بھی فطرت کے خلاف ہیں؟‘

بھارت میں کئی برسوں سے ہم جنس پرستی متنازعہ اور بحث طلب مسئلہ رہا ہے۔ کئی سیاسی اور مذہبی شخصیات نے دلی ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد سے ہم جنس پرستی کے خلاف مہم تیز کر دی ہے۔

سپریم کورٹ میں مسلم پرسنل لاء بورڈ، عیسائیوں کی مذہبی تنظیمیں اور کئی سرکردہ ہندو تنظیموں نے مشترکہ مقدمہ دائر کیا ہے۔

اس کی قیادت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک رہنما بی پی سنگھل کر رہے ہیں جنہوں نے ہم جنس پرستی کو غیر اخلاقی، غیر قانوی، بھارتی تہذیب و ثقافت کے خلاف اور غیر فطری عمل بتایا ہے۔

اس مقدمہ پر سماعت بدھ پندرہ فروری کو شروع ہوئی تھی۔

اسی بارے میں