انسداد دہشتگردی مرکز کی سخت مخالفت

ممتا بنرجی تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ممتا بنرجی حکومت کی سب سے بڑی اتحادی پارٹی کی سربراہ ہیں

بھارت میں وفاقی حکومت کی جانب سے ایک قومی انسداد دہشتگردی مرکز قائم کرنے کی تجویز خطرے میں پڑ گئی ہے کیونکہ خود حکومت کی سب سے بڑی اتحادی جماعت ترنمول کانگریس سمیت ملک کی کئی بڑی علاقائی جماعتوں نے اس کی مخالفت کی ہے۔

مغربی بنگال کی وزیراعلی اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی نے نے اس سلسلے میں وزیر اعظم کو ایک خط بھیجا ہے۔

واضح رہے کہ ترنمول کانگریس پارٹی حکومت کی سب سے بڑی اتحادی جماعت ہے۔

اڑیسہ کے وزیر اعلی نوین پٹنائک، تمل ناڈو کی وزیر اعلی جے للیتا، بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار، اور آندھر پردیش میں حزب اختلاف تیلگو دیسم نے بھی حکومت سے کہا ہے کہ انسداد دہشت گردی مرکز کی تجویز سے ملک کے وفاقی کردار کو زک پہنچے گی۔

نامہ نگار سہیل حلیم کے مطابق یہ رہنما طاقتور علاقائی جماعتوں کی قیادت کرتے ہیں اور ان کا ایک پلیٹ فارم پر آنا وفاقی حکومت کے لیے اچھی خبر نہیں ہے۔

حزب اختلاف بھارتیہ جنتا پارٹی نے بھی ان رہنماؤں کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجوزہ نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم مرکز سے ریاستوں کے اختیارات کمزور ہوں گےاور اسے ریاستوں میں غیر کانگریسی حکومتوں کو ہراسان کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

این سی ٹی سی کی ضرورت ممبئی پر دو ہزار آٹھ کے حملوں کے بعد محسوس کی گئی تھی کیونکہ ماہرین کا خیال تھا کہ حملے کے دوران اور اس سے پہلے مختلف انٹیلی جنس ادادروں کے درمیان تال میل کی کمی نمایاں طور سامنے آئی تھی۔

ممتا بنرجی نے خط میں لکھا ہے کہ مرکز کے قیام سے متعلق حکم پر نظر ثانی کی جائے اور اس واپس لے لیا جائے کیونکہ ’ریاستی حکومت جس طرح من مانے انداز میں اختیارات کا استعمال کر رہی ہے اس سے ریاستوں کو حاصل حقوق متاثر ہوں گے‘۔

ممتا بنرجی کا خط اڑیسہ میں وزیر اعلی نوین پٹنائیک کے دفتر سے جاری کیا گیا ہے۔ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کوئی بھی ایسا فیصلہ، جس سے ریاستوں کے اختیارات پر اثر پڑتا ہو، ان سے صلاح مشورے اور ان کی رضامندی حاصل کرنے کے بعد ہی کیا جانا چاہیے۔

اڑیسہ کے وزیر اعلی نوین پٹنائیک نے کہا کہ مرکز کے سلسلے میں حکومت نے ان سے صلاح مشورہ نہیں کیا تھا اور حکومت اب غلط بیانی سے کام لے رہی ہے۔

این سی ٹی سی یکم مارچ سے کام شروع کر دے گا اور اس کی نگراں کمیٹی میں ریاستی اور وفاقی انسداد دہشتگردی اداروں کے سربراہ شامل ہوں گے اور اسے اپنی کارروائیوں میں نیشنل سکیورٹی گارڈ اور میرین کمانڈوز جیسی اعلی تربیت یافتہ فورسز کو استعمال کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔

حکومت کا خیال ہے کہ ریاستی اداروں کے سربراہان کو کمیٹی میں شامل کرنے سے خفیہ معلومات کے تبادلہ کا نظام بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

اس کے علاوہ ادارے کو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام سے متعلق قانون کے تحت ملک کے کسی بھی حصے میں گرفتاریاں کرنے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔ فی الحال وفاقی ادارے ریاستوں کی مرضی کے بغیر ان کے خطے میں کوئی کارروائی نہیں کرسکتے کیونکہ آئین کے تحت امن و قانون کی ذمہ داری ریاستوں کو دی گئی ہے۔

اسی بارے میں