’مسلمان ڈرا ہوا ہے، کچھ نہیں بولے گا‘

گودھرا
Image caption مسلمانوں کے علاقے کو وہاں کے لوگ ' چھوٹا کراچی' کہتے ہیں

ریاست گجرات کے شہر گودھرا میں اگر کوئی شخص کچھ نہ کہے تو سمجھیے وہ بہت کچھ کہنا چاہتا ہے۔

یہاں رپورٹنگ کے لیے بہت کچھ لوگوں کی آنکھوں میں پڑھنا پڑتا ہے۔ یہ بھی بات ہے کہ بہت سارے لوگ تو یہاں آپ سے بات ہی نہیں کرنا چاہتے ہیں۔

گودھرا بٹا ہوا شہر ہے۔ ہندو اور مسلمانوں کے علاقے واضح طور پر بٹے ہوئے ہیں۔ میرے ڈرائیور کو جیسے ہی معلوم ہوا کہ میں ایک صحافی ہوں اور مسلمانوں سے ملنا چاہتا ہوں اس کا پہلا سوال تھا ’ آپ ہندو ہیں یا مسلمان؟‘

دوسرا سوال تھا ’ آپ ڈبیشور مہاراج کو بھی دیکھیں گے؟‘ ڈبیشور مہاراج سے اسکا مطلب تھا سابرمتی ایکسپریس کا وہ ڈبا جس کو آگ لگائی گئی تھی اور اسی واقعے کے بعد گجرات میں سنہ دوہزار دو میں فرقہ وارانہ فسادات ہوئے تھے۔

میں نے ڈرائیور سے کہا کہ میں پہلے لوگوں سے ملوں گا

مسلمانوں کے علاقے میں داخل ہوتے ہی ڈرائیور کے دو الفاظ نے بہت کچھ کہہ دیا۔ ’ادھر ہندوستان اور آگے چھوٹا کراچی ہے یعنی مسلمانوں کا علاقہ‘

مسلم آبادی والے پلون بازار علاقے میں کیسری چوک ہے جن سنہ 2005 کے بعد ہردن ترنگا پرچم لہرایا جاتا ہے۔ جھنڈا لہرانے کا کام فاروق کیسری کرتے ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ وزیر اعلی نریندر مودی کے زبردست حمایتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے ’ادھر لوگوں کا نام بہت بدنام تھا تو 2005 میں یہاں کے ضلع کلکٹر نے کہا یہاں ہر دن ترنگا پرچم لہراؤ تاکہ یہاں کے لوگوں کو یہ پیغام دے سکو کہ آپ بھی ہندوستانی ہیں‘۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا پرچم لہرانا مسلمانوں سے ہندوستانی ہونے کا سرٹیفیکیٹ مانگنے کے برابر نہیں ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’نہیں! ایسا کر کے ہم یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ ہم ہندوستان کی عزت کرتے ہیں، یہاں کے سب لوگ ہندوستانی ہیں اور مودی جی بہت اچھا کام کررہے ہیں‘۔

فاروق کیسری بائیک کی دوکان چلاتے ہیں اور وہ فخر سے کہتے ہیں کہ ان کے نوّے فیصد خریدار ہندو ہیں۔

فاروق کیسری سے بات چیت کے دوران وہاں بیٹھا ایک نوجوان مسکرا رہا تھا۔

جیسے ہی میں نے اپنا ریکارڈر بند کیا اس نے کہا ’میری شناخت واضح مت کرنا۔ اصل بات یہ ہے کہ یہاں کا مسلمان بہت ڈرا ہوا ہے۔ اتنا ڈرا ہوا ہے کہ کچھ بولے گا نہیں۔ مودی ترقی کے کام کر رہے ہیں لیکن شروعات کیسے ہوئی یہ بھی سوچیے‘۔

ادھر ہندو نظریاتی تنظیم وشو ہندو پریشد کے مقامی لیڈر کہتے ہیں کہ ’دونوں طبقوں کے درمیان رشتے معمول پر آتے نظر آ رہے ہیں لیکن ایک دوسرے سے یقین اٹھ چکا ہے۔ یہاں کا ہندو گودھرا کے مسلمانوں پر یقین نہیں کرتا۔ دو ماہ قبل ایک مسلمان لڑکا ایک ہندو لڑکی کو بھگا لے گیا تھا پھر ہم نے اس چھڑایا۔ سارے مسلمان ایسے نہیں ہیں لیکن ایسے لوگ بھی ہیں جو غلط کام کرتے ہیں۔ اس لیے یقین نہیں ہوتا ایک دوسرے پر۔ یہاں کا مسلمانوں کا گھانچی طبقہ ہندوستان مخالف ہے‘۔

گودھرا ٹرین حادثے کے بعد نوّے لوگوں کو سابرمتی ایکسپریس کا ڈبا جلانے کی سازش میں گرفتار کیا گیا تھا جس میں سے تریسٹھ افراد کو رہا کردیا گیا ہے۔ اکتیس افراد ابھی بھی جیل میں ہیں جن میں بعض کو عمر قید کو بعض پھانسی کی سزاسنائی جاچکی ہے۔

اس واقعے اور گجرات فسادات کو دس برس ہوگئے ہیں لیکن فسادات کے بھوت نے نہ تو یہاں کے عوام اور نہ ہی نریندر مودی کا پیچھا چھوڑا ہے۔ فسادات کی تلخ یادیں لوگوں کو آج بھی ڈراتی ہیں۔

اسی بارے میں