’زندگی کے نو سال برباد کر دیے‘

حبیب تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حبیب کے دو بھائی ابھی بھی جیل میں ہیں۔

گودھرا میں سابرمتی ایکسپریس کے ڈبے جلائے جانے کے الزام میں نوے سے زیادہ لوگوں کو گرفتار کیا گیا تھا جس میں سے تریسٹھ افراد گزشتہ ایک برس پہلے اس لیے رہا کردیے گئے کیونکہ انکے خلاف کوئی ثبوت نہیں مل پائے تھے۔

تاہم گرفتار کیے گئے اکتیس افراد کو قصور وار قرار دیا گیا ہے۔

جن افراد کو رہا کیا گیا تھا ان پر لگے الزامات تو ثابت نہیں ہو پائے لیکن ان کے نو سال برباد ضرور ہو گئے۔

گودھرا شہر سے تھوڑی دور رحمت نگر کی جھگیوں سے کئی لوگوں کو پکڑا گیا تھا۔

حبیب انہیں میں سے ایک ہیں۔ حبیب تو رہا کردیے گئے لیکن ان کے دو بھائی ابھی بھی جیل میں ہیں۔ حبیب کے والد میڈیا سے بے حد ناراض دکھائی دیے اور بار بار درخواست کیے جانے کے بعد ایک ہی جواب دیتے رہے کہ ’ہمیں میڈیا سے کوئی بات نہیں کرنی، میری تصویر نہ کھینچنا، مجھے بالکل بات نہیں کرنی۔‘

بڑی مشکل سے حبیب بات چیت کے لیے رازی ہوئے تو ناراضگی پھٹ پڑی، ’ابھی بتاو ہم کیا کریں؟ نو سال برباد ہوئے میرے۔ کوئی لوٹائے گا؟ دو بھائی ابھی بھی جیل میں بند ہیں۔ گودھرا میں گاڑی جلائی، ہم لوگ ادھر جھگیوں میں تھے۔ پولیس اٹھا کے لے گئی۔ بند کرنے کے بعد بتایا کہ کیوں بند کیا ۔ہم تو اسٹیشن سے بہت دور تھے۔‘

شبیر بھی انہی جھگیوں میں رہتے ہیں۔ انہیں بات کرنے سے اعتراض نہیں اور ان کا غصہ صاف تھا۔ شبیر کہتے ہیں ’ابھی بھی ہم کہتے ہیں کہ معاملے کی سی بی آئی جانچ ہونی چاہیے۔ میں رہا ہوگیا ہوں لیکن معاملے کی تفتیش ٹھیک سے نہیں ہوئی۔ تفتیش ہوگی تبھی معلوم ہوگا کہ ڈبے میں آگ کس نے لگائی۔‘

شبیر جب گرفتار ہوئے تو ان کی بیوی ریحانہ آٹھ ماہ کی حاملہ تھیں۔ انکے گھر بیٹی پیدا ہوئی لیکن شبیر اپنی بیٹی کو نو سال کے بعد چھو پائے۔

ریحانہ کہتی ہیں ’جب یہ پیدا ہوئی تو اس کا باپ جیل میں تھا۔ ہمیں چھ ماہ تک ملنے نہیں دیا گیا۔ پھر جب میں جیل جاتی تھی تو جالی کے پار سے بچی کو دکھایا انہیں۔ چھو نہیں پاتے تھے اپنی بچی کو۔ یہ اپنے باپ کو پہچانتی بھی نہیں تھی۔ ایک سال پہلے جب واپس آئے تو پہلی بار بچی کو چھوا۔ تب یہ ساڑھے آٹھ سال کی ہو گئی تھی۔‘

ریحانہ جیسی کئی خواتین نے یہ نو سال مزدوری کر کے گزارے ہیں۔ ریحانہ بتاتی ہیں کہ بستی سے گرفتار کیے گئے گیارہ افراد غریب خاندان سے ہیں اور تمام لوگ محنت مزدوری کر کے گزر بسر کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption شبیر نے اپنی بیٹی کو ساڑھے آٹھ سال بعد پہلی بار چھوا تھا۔

وہ کہتی ہیں ’ہم برتن مانجھ مانجھ کے گھر چلاتے رہے اتنے دن۔ دو بیٹیاں ہیں اور شوہر جیل میں تھا۔ بھوکے مر جاتے ہم لوگ۔ ہمارا شوہر تو لوٹا لیکن ابھی بھی بستی کے تین چار لوگ جیل میں ہیں۔ یہ تو نہ انصافی ہے۔‘

غریب بستیوں میں لوگ بات کر لیتے ہیں لیکن کئی کھاتے پیتے گھروں کے لوگوں کو بھی سازش کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔

انہی میں سے ایک ہیں رول امین اٹھیلا جو پیشے سے وکیل ہیں۔ اٹھيلا ملنے کو تیار ہوئے لیکن پہلی ہی بات کہی ’نہ انٹریو دوں گا اور نہ ہی تصویر کھیچنے دوگاں۔ آپ آئیے آپ کو چائے پلاتا ہوں۔‘

اٹھيلا سے آدھے گھنٹے کی ملاقات میں بار بار انٹرویو کے لیے زور دیتا رہا لیکن وہ تیار نہیں ہوئے۔ ان کی آنکھیں گویا صاف کہہ رہی ہوں ’میں مجبور ہوں تم سمجھنے کی کوشش کرو۔‘

بات چیت کے دوران محمد حسین كلوٹا سے ملاقات ہوئی۔ كلوٹا ماضی میں گودھرا میونسیپلٹی کے صدر رہ چکے ہیں اور گودھرا کے واقعے کے بعد گرفتار کیے گئے تھے۔ كلوٹا پر بھی سازش کا الزام تھا لیکن وہ رہا ہو گئے ہیں۔ كلوٹا نے بھی انٹرویو دینے سے صاف انکار کر دیا۔

پیشے سے وکیل ہوں یا پھر عزت دار شہری۔ ان کا گرفتار ہونا پھر ان کا باعزت چھوٹ جانا عجیب تو لگتا ہے لیکن سب سے عجیب لگا ان الزامات سے بری ہونے کے بعد بھی میڈیا سے بات نہ کرنا۔ یہ عجیب تو ہے لیکن گودھرا کا سچ یہی ہے۔

اسی بارے میں