’خاوند نے پندرہ ہزار میں بیچا‘

ناظمینہ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ناظمینہ کے رشتہ دار نے اس کے ساتھ دھوکا کیا

بنگلہ دیش کے مہرپورہ گاؤں کی پندرہ سالہ ناظمینہ اپنے ایک رشتہ دار کے ساتھ بیس سال قبل سیر کے لیے بھارتی زیراتنظام کشمیر آئی تھیں۔ یہاں پہنچنے پر انہیں معلوم ہوا کہ وہ بہت بڑے فریب کا شکار ہوگئی ہیں۔

ناظمینہ کا رشتہ دار دراصل غیر کشمیری عورتوں کی خریدوفروخت کے ایک بہت بڑے نیٹ ورک کا حصہ تھا ، جس کے تحت بنگلہ دیش اور بھارتی بنگال سے غریب لڑکیوں کو کشمیر لا کر فروخت کیا جاتا ہے۔

چھ سے زائد مردوں کے ہاتھوں خریدی اور بیچی گئی ناظمینہ آج کل بڈگام ضلع کے بیروہ قصبے میں پچھلے چھ ماہ سے غلام محمد چوپان اور ان کے چار بچوں کے ساتھ رہتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ انہیں آج اپنے گھر کا پتہ بھی معلوم نہیں۔

اپنے پہلے خاوند کے ساتھ ناظمینہ کا نکاح دس ہزار روپے مہر کے عوض ہوا تھا، اسے ایک پیسہ نہیں ملا۔ وہ کہتی ہیں کہ کچھ مہینے بعد خاوند نے اسے ایک عمررسیدہ شخص کے یہاں ایک ہفتہ کے لیے روانہ کیا جس کے عوض اس نے اُس شخص سے پندرہ ہزار روپے لیے تھے۔

’میرے خاوند نے کہا تھا کہ چند دن بعد جھگڑا کر کے واپس آجانا لیکن میں نے ایسا نہیں کیا۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ وہ بوڑھا آدمی بھی مجھے کسی اور کے ہاتھ بیچ دے گا‘۔

ناظمینہ نے ایک مقامی شہری سے مجھے کہلوایا کہ اس کا موجودہ خاوند غلام محمد چوپان بھی اسے بیچنے کی تیاری کر رہا ہے۔

کشمیر کے کئی علاقوں میں ایسی خواتین کی خاصی تعداد رہتی ہے۔ بارہمولہ، بڈگام اور اننت ناگ اضلاع میں کمسن لڑکیوں کو خرید کر ان سے شادی کے رجحان پر بعض رضاکار حلقوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے، کیونکہ ایک رپورٹ کے مطابق وادی میں ڈیڑھ ہزار ایسی جواں سال خواتین ہیں جن کے خاوند لاپتہ ہوگئے۔

شمالی کشمیر کے پٹن قصبہ کے پولیس افسر محمد عبداللہ نے بی بی سی کو بتایا کہ غیر کشمیری عورتوں کا کاروبار منظم طریقہ سے ہورہا ہے۔ اس سلسلے میں اکثر گرفتاریاں ہوتی ہیں، لیکن عورتوں کی خریدوفروخت کا کاروبار کرنے والے دلال ضمانت پر رہا ہوتے ہیں اور پھر سے اپنا کام شروع کر دیتے ہیں۔

بڈگام ضلع میں اسکندر پورہ کی رفیقہ بھی ایسی ہی ایک اور خاتون ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پندرہ سال کی عمر میں وہ ساٹھ سالہ شخص کے ساتھ بیاہی گئی تھیں۔’وہ مجھے بہت مارتا ہے اور گاؤں والے بھی مارتے ہیں‘۔

رفیقہ کا الزام ہے کہ وہ اسکندر پورہ میں شیعہ مسلک کے متحارب دھڑوں کے درمیان ٹکراؤ کا شکار ہوتی ہیں۔’مجھے کچھ لوگ مصطفوی سمجھتے ہیں اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ میں کسی مولوی صاحب کی حمایتی ہوں۔ میں کچھ نہیں ہوں، مجھے میری زندگی لوٹا دو، میں کہاں پھنس گئی‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مذہبی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ سمگل کی گئی ایک خاتون کا مہینے میں پانچ بار نکاح غیر شرعی قرار ہے

بڈگام کے ہی لولی پورہ گاؤں کے سماجی رضاکار بشیر احمد قریشی کہتے ہیں کہ تقریباً چالیس ہزار بنگالی خواتین کشمیر کے دس اضلاع میں پھیلی ہوئی ہیں اور ان میں سے بیشتر اپنے خاوند کے ستم برداشت کر رہی ہیں۔

مذہبی رہنما اور وسطی کشمیر کے میرواعظ لطیف شاہ بخاری کہتے ہیں کہ دلالوں کا ایک منظم گروہ ان خواتین کو بظاہر نکاح کے لیے کشمیر لاتا ہے ، لیکن یہاں ان کا کاروبار ہوتا ہے۔ ’ایک عورت کا ایک ہی مہینہ میں کم از کم پانچ بار نکاح ہوتا ہے۔ یہ تو غیر شرعی ہے۔ نہ مہر طے ہوتا ہے اور نہ عدّت یعنی طلاق کے بعد تین ماہ دس دن کا وقفہ کا خیال رکھا جاتا ہے‘۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دلال پہلے بنگال جاکر خود شادی کرتے ہیں اور بعد میں اسی لڑکی کے رشتہ داروں کو بہلا پھسلا کر کشمیر لاتے ہیں۔ یہاں وہ لوگ نہ صرف اپنی بیوی بلکہ دوسری لڑکیوں کو بھی بیچ دیتے ہیں۔ ایسی ہی ایک لڑکی ناظمینہ نے بتایا کہ اسے پانچ مرتبہ بیچا گیا ، لیکن اس کے والدین کو ایک پیسہ نہیں ملا۔

اسی بارے میں