جیت کے لیے مندروں کے چکر

مندر کی گھنٹی
Image caption اترپردیش میں اسمبلی انتخابات جاری ہیں

اترپردیش میں اسمبلی کے انتخابات کے امیدوار صرف عوام کو ہی نہیں بھگوان کو بھی خوش رکھنے کی کوشش کررہے ہیں۔اترپردیش کے شہر بنارس کے مختلف مندروں میں الگ الگ پارٹیوں کے امیدوار پوجا پاٹ کرانے میں لگے ہیں۔

بنارس کے مشہور پنڈتوں میں سے ایک روی شنکر شرما نے بی بی سی کو بتایا کہ انتخابات کے وقت امیدوار طرح طرح کی پوجا کرواتے ہیں۔

انتخابات میں جیت کی خواہش کو پورا کرنے کے لیے وہ بھگوان راج راجیشوری کی پوجا کرواتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی وہ کئی الگ الگ بھگوانوں کی پوجا کرواتے ہیں۔

انکا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ دو اہم سیاسی رہنماؤں کے لیے خود اس طرح کی پوجا کریں گے اور یہ پوجا صرف بدھ کے دن کی جاسکتی ہے۔ یہ پوجا وہاں انتخابات سے پہلے اور بعد تک چلے گی۔

انہوں نے ان سیاسی رہنما‎ؤں کے نام بتانے سے انکار کردیا ہے۔

بنارس کے ایک قدیم مندر کے پنڈت کنک دت دکشت نے بتایا کہ گزشتہ انتخابات کے دوران آلہ آباد سے بہوجن سماج پارٹی کے لیڈر نند گوپال نندی یہاں آکر ایک بڑی پوجا کرواکر گئے تھے۔

وہ کہتے ہیں ’انتخابات سے پہلے یہ کہہ کر جان کھا رکھی تھی بابا پوجا کراؤ، پوجا کراؤ، لیکن انتخابات میں فاتح ہونے اور وزیر بننے کے بعد پلٹ کر دیکھا بھی نہیں کہ بابا زندہ ہے کہ مر گیا‘۔

پنڈت دکشت کی طرح پنڈت روی شنکر نے اس بات کا اعتراف کیا کہ لیڈران اپنا کام نکلنے پر پوچھتے بھی نہیں۔

شری رمن جی نامی ایک پنڈت نے بتایا کہ مندر میں پوجا کرانے کے علاوہ انتخابی امیدوار جادو ٹونا کرنے والوں کے پاس بھی جاتے ہیں۔ پنڈتوں کا کہنا تھا کہ پوجا پاٹ سے اثر ضرور ہوتا ہے۔

اسی بارے میں