دلی، بچوں کو کیڑوں سے نجات دلانے کی مہم

آخری وقت اشاعت:  پير 20 فروری 2012 ,‭ 11:16 GMT 16:16 PST

سکولی بچوں میں پیٹ کے درد کی شکایت رہتی ہے

بھارت کے دارالحکومت دلی میں سکول کے بچوں کو پیٹ کے کیڑوں سے نجات دلانے کے لیے دوا پلانے کی ایک بڑی مہم کا آغاز کیا گيا ہے۔

یہ مہم ریاستی حکومت نے شروع کی ہے اور پیر کو وزیر اعلٰی شیلا دکشت نے سکول کے پچاس بچوں کو دوا پلا کر اس مہم کا افتتاح کیا۔

اس مہم کا نام '' ڈی ورمنگ'' ہے جس کے تحت دلی کے تمام سرکاری سکولوں کے بچوں کو اکیس فروری کو کیڑے مار دوا پلائی جائیگي۔ اس کا دوسرا مرحلہ چھ ماہ بعد شوع ہوگا۔

بی بی سی ہندی کے نامہ نگار موہن لال شرما سے بات چیت میں ریاستی وزیر صحت اشوک کمار والیا نے کہا کہ اس کے تحت ایک سے سترہ برس کے درمیان کے بچوں کو دوا دی جائیگی۔

ان کے مطابق اس کا مقصد بچوں کو پیٹ کی بیماریوں سے بچانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں ایک جائزے سے پتہ چلا ہے کہ بیشتر بچے پیٹ کی بیماریوں سے پریشان رہتے ہیں اور اس کی وجہ پیٹ میں پائے جانے والے کیڑے ہیں۔

دیکھا یہ گیا ہے بہت سے بچوں میں صبح کے وقت پیٹ میں درد رہتا ہے اور اس کی وجہ پیٹ میں پائے جانے والے کیڑے ہوسکتے ہیں۔ اس سے بچوں کو بھوک نہیں لگتی اور چہرے پر سفید داغ پڑنے لگتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس سے بچنے کے لیے بچوں کو چھ ماہ میں ڈی ورمنگ یعنی کیڑے مار دوا دینا ضروری ہوتا ہے۔

ریاستی حکومت نے اس مہم کے لیے خصوصی ٹیم تیار کی ہے اور '' ڈی ورمنگ'' مہم کے لیے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔

یہ مہم عالمی تنظیم '' ڈی ورم دی ورلڈ'' کی مشترکہ کوششوں سے شروع کی گئی ہے۔

اس سے پہلے دلی کی حکومت نے سکول کے بچوں میں پائے جانے والی بیماریوں سے متعلق ایک سروے کیا تھا اور اس جائزے کے بعد ہی کیڑے مار دوا کی خوارک دینے کا فیصلہ کیا گيا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔