گودھرا کے سکول ٹیچر

Image caption گرجا شنکر اور مینا بین مسلم بچوں کو تعلیم دیتے ہیں

بھارتی ریاست گجرات کے شہر گودھرا کے مسلمانوں اور ہندوؤں میں بد اعتمادی کا ماحول ضرور ہے لیکن کچھ لوگ فسادات سے متاثرہ بچوں کی فلاح کے لیے کوشاں بھی ہیں۔

اسی شہر میں گرجا شنکر جیسے لوگ بھی رہتے ہیں جو ہندو ہونے کے باوجود فسادات سے متاثرہ بچوں کو لگن اور دیانت داری سے تعلیم دینے کا کام کر رہے ہیں۔

دو ہزار دو کے مسلم مخالف فسادات کے دوران علاقے کے بہت سے خاندان برباد ہوئے تو کئی لوگ خالی ہاتھ گودھرا پہنچے۔ وہاں انہیں امن نامی ایک سوسائٹی میں مکانات دیے گئے جہاں ایک سکول بھی ہے۔

اس سکول میں دو اساتذہ گرجا شنکر پرجا پتی اور مینا بین بھی پڑھاتے ہیں۔

گودھرا میں عام طور پر مسلمانوں کے متعلق لوگوں کے خیالات اچھے نہیں نظر آتے لیکن سکول کے ان دونوں استادوں سے ملنے کے بعد ایسا لگا کہ انسانیت ابھی زندہ ہے۔

گرجا شنکر کہتے ہیں ’میں تو اس سکول میں ٹرانسفر لے کر آیا تھا۔ پہلے جس سکول میں تھا وہاں صرف ہندو بچے تھے اور پیسے والے تھے۔ وہ پڑھتے نہیں تھے۔ یہاں بچے غریب ہیں، ماں باپ دور سے آئے ہیں، کچھ بچّے تو فسادات کی وجہ سے یتیم ہیں لیکن وہ اچھے ہیں اور پڑھتے لکھتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ کچھ چھوٹے بچے ہیں جو گھر سے سکول نہیں آنا چاہتے ’لیکن ہم انہیں گھر سے لیکر آتے ہیں۔ شرارت بھی کرتے ہیں لیکن ہم نے انہیں کبھی مارا نہیں۔ دو ہزار پانچ میں جب ٹرانسفر کا وقت آیا تو ہم نے اس سکول کو منتخب کیا تھا۔‘

Image caption قیصر کہتی ہیں کہ انہیں ہندؤں نے ہی فسادیوں سے بچایا تھا

جب ان سے یہ پوچھا کہ انہیں مسلم علاقے میں نوکری کرتے ڈر نہیں لگتا تو ان کا کہنا تھا کہ اگر قسمت میں لکھا ہوگا کہ مسلمان ان کی جان لے لیں گے تو وہ ہو کر رہے گا۔ ہمیں ڈر نہیں لگتا کیونکہ جیسے اعمال ہونگے ویسا ہی پھل ملے گا۔‘

یہ سکول فسادات سے متاثرہ لوگوں کے لیے دو کمروں میں ہی چلتا ہے اور علاقے کے لوگ اور دونوں اساتذہ کا کہنا تھا کہ اس سکول کی عمارت نہیں ہے جو ایک بڑی پریشانی ہے۔

اسی سوسائٹی میں عذرا حسین، جابر بھائی اور جاوید بھی رہتے ہیں جنہیں حکومت سے بہت سی شکایات ہیں۔ لیکن یہ لوگ اس بات سے خوش ہیں کہ ان کے بچوں کو تعلیم مل رہی ہے۔

جاوید کا کہنا تھا ’ہم اپنا گھر بار چھوڑ کر آئے تھے اس لیے مشکلات تو بہت ہیں لیکن یہ سکول ہے تو بچے پڑھ لیں گے۔ ہمارے رشتے دار مار دیے گئے اب کیا کر سکتے ہیں، کسی طرح جینا تو ہے۔‘

گجرات میں فسادات کے دوران بیشتر مسلمان ہی مارے گئے لیکن بعض جگہوں پر ہندوؤں نے انہیں بچایا بھی۔

امن سوسائٹی کی قیصر ابراہیم منصور کہتی ہیں’میں سابر کانٹھا میں تھی۔ وہاں مجھے لوگوں نے بھینسوں کے ایک اصطبل میں چھپا کر بچایا تھا۔ مارنے بھی ہندو آئے تھے اور بچایا بھی ہندوؤں نے۔ ہمارا مکان جلا دیا گيا تھا۔ لیکن دوسرے گاؤں کے ہندوؤں نے ہمیں دس دن جھپا کے رکھا۔‘

گجرات میں ہندوؤں کی اکثریتی آبادی بھلے ہی مسلمانوں کی مخالف نظر آتی ہو لیکن بعض افراد اب بھی انسانی قدروں میں یقین رکھنے والے ہیں جس سے امید کی کرن نظر آتی ہے۔

اسی بارے میں