اطالوی اہلکار چودہ دن کیلیے پولیس تحویل میں

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یہ واقعہ بھارت اور اٹلی کے درمیان سفارتی رشاکشی کا باعث بن گيا ہے

بھارتی ماہی گيروں کی ہلاکت کے ذمہ دار ٹھہرائےگئے اطالوی جہاز کے عملے کے دو ارکان کو عدالت نے چودہ روز کے لیے پولیس کی تحویل میں دے دیا ہے۔

اتوار کو انہیں اٹلی کے جہاز سے حراست میں لیا گيا تھا اور پیر کے روز ان دونوں ملزمان کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گيا تھا۔

دونوں افراد سے پہلے جہاز پر ہی پوچھ گچھ کی گئی تھی لیکن عدالت میں پیشی کے بعد کیرالا کی ایک ذیلی عدالت انہیں دو ہفتے کی پولیس ریمانڈ میں بھیجا ہے۔

گزشتہ بدھ کے روز ریاست کیرالا کے ساحل سمندر پر دو بھارتی ماہی گيروں کو گولی مار دی گئی تھی۔ اس واقعے میں پچیس سالہ آجیش بنکی اور پینتالیس سال کے جلاسٹین ہلاک ہوگئے تھے۔

فائرنگ اطالوی جہاز سے ہوئی تھی جو سنگا پور سے مصر کی طرف جا رہا تھا۔ اطلاعات ہیں کہ اطالوی جہاز کے محافظوں نے بحری قزاقوں کے خطرے کے پیش نظر یہ سمجھ کرگولی چلائی تھی کہ شاید وہ لٹیرے ہیں۔

اٹلی کا کہنا ہے کہ اس کے جہاز کے عملے نے اپنے تحفظ کے لیے ایسے اقدامات کیے تھے لیکن بھارت نے اس واقعے کو بہت افسوس ناک قرار دیا تھا۔

اسی مسئلے پر بھارت نے دلی میں اطالوی سفیر کو بھی طلب کیا تھا۔ ادھر اٹلی کے ایک سینیئر وزیر بھارتی حکام سے بات چيت کے لیے اتوار کو ہی دلی پہنچ گئے تھے۔

اٹلی کا موقف ہے کہ اس کے شہریوں پر بھارت میں بھارتی قانون کے مطابق مقدمہ نہیں چلا یا جا سکتا کیونکہ جہاز سمندر میں بین الاقوامی خطے میں تھا۔ لیکن بھارت ان پر مقامی قانون کے مطابق کارروائی کرنا چاہتا ہے۔

اٹلی نے اس کے خلاف کیرالا ہائی کورٹ میں اپیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس مسئلے پر بھارت اور اٹلی کے درمیان شدید اختلافات سامنے آئے ہیں اور سفارتی سطح پر دونوں کے درمیان یہ ایک تنازعہ پیدا ہو گیا ہے۔

اسی بارے میں