’شوہر کا نام لگانا ضروری نہیں‘

ایک بھارتی خاتون تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption اس سے قبل مہاراشٹر کی عدالتوں میں کسی شادی شدہ خاتون کی درخواست تب تک قبول نہیں کی جب تک وہ اپنے شوہر کا نام اپنے نام کے ساتھ نہ لگائے

بھارت کی ریاست مہاراشٹر کے شہر ممبئی میں ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں کہا ہے کہ شادی کے بعد کسی بھی عدالتی کاروائی کے لیے خواتین کو اپنے نام کے ساتھ اپنے شوہر کا نام لگانا ضروری نہیں ہے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق ممبئی ہائی کورٹ نے کچھ دن قبل فیملی کورٹس ایکٹ کے تحت ایک اہم اصول میں ترمیم کی ہے جس سے شادی کے بعد کسی بھی عدالتی کاروائی کے لیے خواتین کو اپنے نام کے ساتھ شوہر کا نام استمعال کرنا ضروری نہیں ہوگا۔

دراصل ہائی کورٹ کی یہ تجویز کوگزشتہ سال نومبر میں ہی سرکاری گزٹ میں شائع گیا تھا لیکن اس پر کسی نے توجہ نہیں دی۔ گزشتہ روز ممبئی ہائی کورٹ کے سامنے اسی نوعیت کا نیا معاملہ آیا تو عدالت نے کہا ہے کہ اس قانون میں ترمیم کی جاچکی ہے اور اب مہاراشٹر کی خواتین اپنا پرانا نام استمعال کرتے ہوئے عدالت کا رخ کرسکتی ہے۔

اس ترمیم سے ان خواتین کو عدالتی کاروائی میں مدد ملے گی جو اپنے شوہر سے طلاق چاہتی ہیں یا پھر گھریلو تشدد کے سبب عدالت کا رخ کرتی ہیں۔ اس سے پہلے اس طرح کی کاروائی کرنے کے لیے انہیں اپنے شوہر کا نام استمعال کرنا ضروری تھا۔

قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ترمیم سے ملک کی دیگرعدالتوں میں بھی خواتین کو شادی سے پہلے کا نام استعمال کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

اس قانون کے مطابق ’بیوی جس نے شادی کے بعد اپنا نام سرکاری گزٹ میں تبدیل نہیں کرایا ہے وہ شادی سے پہلے کا نام شادی کے بعد بھی رکھ استمعال کرسکتی ہیں۔‘

اس سے پہلے مہاراشٹر کی عدالتوں میں کسی شادی شدہ خاتون کی درخواست اس وقت تک نہیں قبول کی جاتی تھی جب تک وہ اپنے نام کے ساتھ اپنے شوہر کا نام یا اس کا ’خاندانی نام‘ نہیں لگاتی تھیں۔

ہائی کورٹ کی جانب سے کی گئی ترمیم کے مطابق اگر خواتین طلاق کے بعد اپنے نام کے ساتھ اپنے شوہر کا نام استمعال کرنا چاہتی ہیں تو وہ بھی ممکن ہوگا لیکن تب تک جب تک عدالت کو یہ نہ لگے کہ ایسا کسی دھوکہ دہی یا جال سازی کے لئے کیا جا رہا ہے۔

خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والے کارکنوں اور وکلاء نے اس نئے قانون کا خیر مقدم کیا ہے۔

اسی بارے میں