گجرات میں نفرت اور ناانصافی کے دس برس

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption فسادات کے بعد سے مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک عام بات ہے

بھارت کی ریاست گجرات میں گودھرا کا واقعہ دس برس قبل آج ہی کے روز رونما ہوا تھا اور سابرمتی ٹرین کا ایک ڈبہ جلائے جانے سے انسٹھ ہندو زائرین ہلاک ہوئے تھے۔

اس کے بعد پوری ریاست میں مسلمانوں کے خلاف فسادات پھوٹ پڑے تھے جن میں ایک ہزار سے زائد افراد مارے گئے اور ہزاروں مجروح ہوئے۔

وزیرِ اعلیٰ نریندر مودی گزشتہ دس برس سے اقتدار میں ہیں۔ ان کی قیادت میں ریاست نے قابلِ ذکر ترقی کی ہے لیکن ریاست کے مسلمان پچھلے دس برس سے پوری طرح الگ تھلگ پڑے ہوئے ہیں۔

گودھرا کے واقعے میں گیارہ مسلمانوں کو موت اور اکیس کو عمر قید کی سزا سنائی گئی جبکہ ایک ہزار سے زیادہ مسلمانوں کے قتل کے لیے بیشتر معاملات میں ابھی تک انصاف نہیں مل سکا ہے اور ملزم آزاد گھوم رہے ہیں۔

ریاست میں مکانوں اور دکانوں کی خریداری اور تجارت میں مسلمانوں کو سخت مشکلات اور تفریق کا سامنا ہے۔ سہیل ساچورا ایک نوجوان ایگزیکٹو اور ایک کمپنی میں ملازم ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ گجرات میں ہندوازم نظریہ رفتہ رفتہ قبولیت حاصل کر رہا ہے ’مسلمانوں کے بچوں کو اچھے سکولوں اور یونیورسیٹیوں میں داخلہ اس لیے نہیں دیا جاتا کہ وہ مسلمان ہیں۔ انہیں تجارت میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔‘

پروفیسر عابد حسین شمسی کہتے ہیں کہ ریاست میں مودی کی دہشت پھیلی ہوئی ہے۔ اگر کوئی ہندو مسلمانوں کو اپنا مکان یا دکان کرائے پر دینا چاہے تو ہندو تنظیمیں اس کے اوپر دباؤ ڈال کر ایسا کرنے سے روکتی ہیں۔

ریاست کے مسلمان تعلیم میں پہلے سے ہی کافی پیچھے تھے اور اب انہیں اقتصادی اور سماجی طور پر الگ تھلگ کرنے کی پالیسی سے ان کے راستے اور بھی مسدود ہو گئے ہیں۔

ریاست کی ایک سماجی کارکن سوروپ دھرو کہتی ہیں کہ گجرات میں مسلمانوں کے سامنے سب سے بڑا سوال زندہ رہنے کا ہے۔ ’ان کے سامنے جیسے حالات ہیں اس میں انہیں لگتا ہے کہ مذہب ہی تحفظ کا ایک راستہ ہے۔ مذہبی لوگ جو کہتے ہیں وہ اسی پر عمل کرتے ہیں۔ وہ اپنے خول میں سمٹتے جا رہے ہیں۔‘

سنہ دو ہزار دو کے فسادات کے بعد وزیرِاعلیٰ نریندر مودی نے کبھی کسی طرح کی غلطی یا انتظامی لغزش کا اعتراف نہیں کیا اور نہ ہی مسلمانوں کی تباہی پر کسی طرح کی افسردگی ظاہر کی۔گجرات کا معاشرہ بھی مسلمانوں کے خلاف کھلی تفریق اور تشدد پر خاموش تماشائی بنا رہا ۔ گجرات آج ایک منقسم معاشرہ ہے۔

دانشور اور سرکردہ وکیل گریش پٹیل کہتے ہیں یہ محض اتفاق نہیں ہے۔گجرات میں سخت گیر ہندوئیت کا تجربہ کیا گیا ہے۔’آج سے سات آٹھ برس پہلے تک، میں نہیں کہہ سکتا تھا کہ مودی ٹائپ کا نظریہ آگے بڑھ سکتا ہے لیکن آج ایسا نہیں کہہ سکتا۔ آج بھارت میں ہندوآئزیزشن دھیرے دھیرے ہو رہا ہے۔گجرات، مدھیہ پردیش، راجستھان، جھارکھنڈ اور چھتیس گڑھ جیسی ریاستوں میں اس کے اثرات دیکھے جا سکتے ہیں۔ ہندو ریاست باضابطہ طور پر ڈکلیر نہیں ہوگی لیکن حقیقت یہی ہے اور یہ سیکیولرسٹس کے لیے بہت بڑا چیلنج ہے۔‘

مسٹر پٹیل کا کہنا ہے کہ مودی گجرات کی مثال دیتے ہوئے بی جے پی کو یہ پیفام دے رہے ہیں کہ مسلمانوں کو چھوڑو، انتخابات ان کے بغیر بھی جیتے جا سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مسلم مخالف فسادات میں ایک ہزار سے زیادہ مسلمان مارے گئے تھے

ایک دوسرے کارکن ہیرن گاندھی اس خیال سے پوری طرح اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ گجرات میں جو تجربہ کیاگیا ہے اس کا اثر ملک کی سیاست پر کچھ عرصے کے لیے ضرور رہےگا لیکن یہ مجموعی طور پر کامیاب نہیں ہو سکےگا۔ ’مودی کی مخالفت ویزا نہ دیکر صرف امریکہ ہی نہیں کر رہا ہے۔ بہار کے وزیرِ اعلی نتیش کمار نے انتخابی مہم کے لیے ان کی مخالفت کی۔ خود بی جے پی کے اندر مودی کے سوال پر اختلافات ہیں۔ ہندوئیت کا نظریہ بھارت کی اپنی نوعیت کے سبب میں اسٹریم سیاست میں زیادہ عرصے تک نہیں چل سکےگا۔‘

سنہ دو ہزار دو کے فسادات کے بعد گجرات وزیر اعلی نریندر مودی کی آہنی گرفت میں ہے۔ ریاست ترقی کی نئی منزلوں کو چھو رہی ہے۔ مسلمانوں کے خلاف دانستہ تفریق نا انصافیوں اور فسادات کے کلنک کے باوجود مودی کی مقبولیت ریاست کی حدود سے نکل کر ملک کے دوسرے خطوں تک پھیل رہی ہے۔

بھارتی میڈیا، بھارتی جنتا پارٹی کی فیادت کا ایک بڑا حصہ اور کئي سرکردہ صنعتکار سیاسی ہندوئت کے اس اوتار کومستقبل میں ملک کی وزارتِ عظمی کے امیدوار کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ریاست میں ایک برس کے اندر اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ کوئی سیاسی معجزہ ہی مودی کو فتح سے روک سکےگا۔ اور یہ وزارتِ عظمی کی جانب سے مودی کا پہلا قدم ہوگا۔

اسی بارے میں