سرکاری ملازمین کے پاس کروڑوں کے ناجائز اثاثے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھارت میں کرپشن کے خلاف مہم کے باوجود اس پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا ہے

بھارت میں محکمہء انکم ٹیکس کے مطابق ریاست مدھیہ پردیش میں اعلی سرکاری افسران کے ایک جوڑے کے پاس دو سو چالیس کروڑ روپے کے اثاثے ملے ہیں جو انہوں نے مبینہ طور پر غیر قانونی طریقوں سے حاصل کیے تھے۔

اروند جوشی اور ان کی اہلیہ ٹینو جوشی دونوں ہی آئی اے ایس افسر ہیں اور مدھیہ پردیش ریاست میں اعلی سرکاری عہدوں پر فائز رہے ہیں۔

ان کے خلاف محکمہ انکم ٹیکس نے سن دو ہزار دس میں چھاپے مارے تھے اور اس وقت ان کے اثاثوں کی مالیت تقریباً تین سو ساٹھ کروڑ روپے بتائی گئی تھی۔

اخباری اطلاعات کے مطابق اب محکمے نے اپنی حتمی رپورٹ تیار کی ہے جس کے مطابق اروند اور ٹینوں جوشی کے پاس دو سو چالیس کروڑ روپے کی املاک ہے۔

محکمہ کی رپورٹ دو ہزار چار سو صفحات پر محیط ہے اور اس کےمطابق ان دونوں نے شمال مشرقی ریاست آسام میں اٹھارہ کروڑ روپے مالیت کے اٹھارہ فلیٹ خرید رکھے ہیں۔ ان کے پاس مدھیہ پردیش میں قبائلیوں کی آبادی والے علاقوں میں تقریباً تین سو ستاسی ایکڑ زمین ہے جس کی مالیت ایک سو ترانوے کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔

اس کے علاوہ ان کے پاس مدھیہ پردیش اور دلی میں رہائشی پلاٹ اور فلیٹز ہیں، چار کروڑ روپے بینک میں جمع ہیں اور تقریباً پندرہ کروڑ روپے بزنس میں لگا رکھے ہیں۔

دونوں افسران کے خلاف ابھی عدالت میں فرد جرم عائد نہیں کی گئی ہے لیکن بتایا جاتا ہے کہ محکمہ انکم ٹیکس کی حتمی رپورٹ آجانے کے بعد اب عدالتی کارروائی شروع کی جاسکے گی۔

اروند اور ٹینوں جوشی دونوں انیس سو ستر میں آئی اے ایس افسر بنے تھے۔ پاکستانی دراندازوں کے خلاف کارگل کی لڑائی کے وقت اروند وزارت دفاع میں جوائنٹ سیکریٹری تھے جبکہ ٹینو جوشی وزیر اعظم کے دفتر میں نائب سیکریٹری کے عہدے پر خدمات انجام دے چکی ہیں۔

چھاپوں کے بعد ان افسران کو معطل کر دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں