گجرات، گودھرا کے چبھتے ہوئے سوالات

Image caption گودھرا ٹرین میں آگ لگنے کے بعد ہی مسلم مخالف فسادت بھڑکے تھے

بھارت کی ریاست گجرات میں دس برس قبل 27 فروری کو سابرمتی ٹرین کا ایک ڈبہ جلایا گیا تھا جس میں 59 ہندو زائرین مارے گئے تھے۔

اس واقعے کے بعد پوری ریاست میں مسلمانوں کے خلاف فسادات بھڑک اٹھے تھے۔

27 فروری 2002 کو گودھرا ریلوے سٹیشن کے نزدیک سابرمتی ایکسپریس کے ایک ڈبے میں آگ لگانے کا جو واقعہ ہوا وہ صرف اس میں ہلاک ہونے والے 59 ہندو زائرین کی ہلاکت کاہی المیہ نہیں تھا بلکہ اس نے پوری ریاست میں ہندو مسلم رشتوں کو بری طرح متاثر کیا۔

اس واقعے کے بعد پوری ریاست میں بڑے پیمانے پر فسادات ہوئے۔ پولیس نے اپنی تفتیش میں اس واقع کو مقامی مسلمانوں کی ایک منظم سازش قرار دیا۔ سو سے زیادہ لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ تفتیش اور مقدمے کی سماعت کے بعد گیارہ افراد کو موت کی سزا سنائی گئی اور بیس افراد عمر قید کے مستحق قرار دیےگئے۔

گودھرا کا سانحہ بلاشبہ ایک انتہائی بہیمانہ واقعہ تھا۔ اس واقعہ کے بعد گودھرا کے لوگوں پر کیا گزری شہر کے ایک نوجوان تاجر مہر پاٹھک کہتے ہیں کہ اس واقعے نے پوری ریاست پر اثر ڈالا تھا لیکن یہاں گودھرا میں کچھ نہیں ہوا۔’ گودھرا کے لوگوں کی سمجھ میں آگیا کہ ان سب باتوں کا کوئی مطلب نہیں ہے اور اس سےخود ہمیں کو نقصان پہنچا ہے۔‘

ایک اور شہری رنویر سنگھ کہتے ہیں کہ گودھرا کا واقعہ تو یہاں کے لوگوں کے لیے ایک سبق ثابت ہوا ہے اور لوگ اب ایک دوسرے کو پہلے سے بہتر طریقے سے سمجھ رہے ہیں۔ ’رشتوں پر تو کوئی خاص اثر نہیں پڑا۔ لیکن اب ساری برادریاں مل جل کر کام کر رہی ہیں۔‘

گودھرا کے بیشتر مسلمان بھی اسی طرح کے خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔ ساجد یوسف شیخ ایک مسلم تاجر ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ پورے شہر میں چند لوگ ہوں گے جو بقول ان کے نفرتوں میں جیتے ہیں۔

سابرمتی کا جلا ہوا ڈبہ اب بھی ریلوے سٹیشن کے نزدیک کھڑا ہوا ہے۔ گودھرا شہرگزشتہ دس برس میں گجرات کے دوسرے شہروں کی طرح بہت آگے نکل چکا ہے۔ ہر طرف تجارتی سرگرمیاں نظر آتی ہیں۔ نئے نئے مکانات گودھرا کی بڑھتی ہوئی اقتصادی خوشحالی کا پتہ دیتے ہیں لیکن یہ تصویر کا صرف ایک پہلو ہے گودھرا کے مسلمانوں کی آبادی کے ایک حصے نے اس واقعے کی بھاری قیمت ادا کی ہے۔

رحمت نگر کے حبیب بن یامین ایسے ہی ایک ایک شہری ہیں۔ انہیں گودھرا کے واقعے کے لیے گرفتار کیا گیا تھا۔ نو سال کی قید کے بعد وہ بے قصور رہا ہوئے ہیں۔ لیکن ان کے دو بھائیوں کو سزائے موت کا سامنا ہے۔’ہمارے خاندان پرجوگزری ہے وہ ہم بیان نہیں کر سکتے۔ کہیں سے کوئی مدد بھی نہیں ملتی۔‘

ریحانہ کے شوہر نے بھی حال میں رہائی پائی ہے۔ وہ جاننا چاہتی ہیں کہ جن لوگوں نے بے قصوروں کو پکڑا تھا کیا انہیں کوئی سزا ملے گی۔ کیا ان کے گزرے ہوئے دن کوئی لوٹا سکےگا۔ ریحانہ کہتی ہیں یہ مسلمانوں کی غریب بستی ہے۔ کہیں پر کوئی بھی واقعہ ہوتا ہے پولیس لوگوں کو یہیں سے پکڑ کر لے جاتی ہے۔

’پولیس نے بےگناہوں کو پکڑ کر نو نو برس تک جیل میں رکھا۔ بےگناہوں کو آتنک وادی (دہشتگرد) بنا کر لےگئے تھے۔ جن کو پکڑ رکھا ہے وہ بھی بے گناہ ہیں۔‘

گودھرا کے مسلمان پولیس کی تفتیش اور عدالت کے فیصلے کے باوجود یہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ ٹرین جلائے جانے کا واقعہ کوئی منظم اور پہلے سے طے شدہ کسی سازش کے تحت ہوا تھا۔ لیکن مہر پاٹھک جیسے شہر کے بیشتر ہندوؤں کو یقین ہے کہ یہ حملہ ایک سوچا سمبھا منصوبہ تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مسلم مخالف فسادات میں ایک ہزار سے زیادہ مسلمان مارے گئے تھے

عبدالحق ابراہیم سمول ریلوے کے ریٹائرڈ ملازم ہیں۔ ان کے بیٹے کو بھی عمر قید کی سزا ہوئی ہے۔ وہ اس بات پر حیران ہیں کہ ان کا بیٹا اس روز جب دوسرے شہر میں تھا تو پھر اسے کیوں اس میں ملوث کر دیا گیا۔ ستر برس کے عبدالحق کی بوڑھی آنکھیں انصاف کے لیے اب تھک چکی ہیں۔

گودھرا کے واقع میں پولیس نے شہر کے ایک محترم شخص مولوی حسین عمر جی کو بھی گرفتار کیا تھا۔ انہیں اس واقعہ کا اصل کردار بتایا گیا تھا۔ ‏کئی برس کی قید کے بعد عدالت نے انہیں بھی حال میں رہا کیا ہے۔ رہائی کے بعد وہ خاموش رہنے لگے ہیں۔

ان کے بیٹے سعید عمر کہ کا کہنا ہے کہ گودھرا کے واقعے کا استعمال مسلم مخالف فسادات کو جواز فراہم کرنے کے لیے گیا۔ سعید کہتے ہیں کہ اس واقعے کی مکمل جانچ کی جانی چاہیئے۔’اس کے نام پر ہمیں بدنام کیا گیا۔ اگر اس واقعے کی جانچ ہو تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائےگا لیکن ریاستی حکومت یہ چاہتی نہیں ہے ۔‘

گودھرا کے واقعے کے دس برس بعد بھی اس واقعے کی نوعیت کے بارے میں لوگ منقسم ہیں۔ شا ید یہ ہمیشہ کے لیے ایک متنازع پہلو بنا رہے گا۔ لیکن عبدالحق، حبیب بن یامین، ریحانہ اور گودھرا کے وہ پچاس سے زیادہ بے قصور مسلم شہری جنہیں نو برس بعد جیل سے رہا کیا گیا، حکومت سے یہ سوال کرتے رہیں گے کہ آخر انہیں کس جرم کی پاداش میں نو برس تک جیل میں رکھا گیا۔ دس برس بعد بھی گودھرا کے بہت سے سوالوں کا کسی کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔

اسی بارے میں