بھارتی کشمیر میں صحافیوں کا احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کشمیر کے صحافیوں نے سرکاری پابندیوں کے خلاف احتجاج کیا ہے

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں مقامی قانون ساز اسمبلی کے سپیکر کی طرف سے کرپشن کی رپورٹنگ پر پابندیوں کے خلاف صحافیوں نے احتجاج کیا اور اسمبلی اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔

صحافیوں کا کہنا ہے کہ ایک وزیر کے متعلق مبینہ طور رشوت لینے کی خبر ایک اخبار میں شائع ہوئی تھی جس پر سپیکر اکبر لون نے کہا کہ اخبار کو خبر کا ’سورس‘ یعنی معلومات کا ذریعہ ظاہر کرنا چاہیئے۔

اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا ’پریس میرے کنٹرول میں ہے۔‘

مقامی صحافی ترون اپادھیائے نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ تو ہماری توہین ہے۔ کرپشن کی رپورٹنگ پر پابندیاں عائد کی جارہی ہیں جو سپریم کورٹ آف انڈیا کی ہدایات کے برعکس ہیں۔‘

واضح رہے کہ کشمیر میں صحافیوں کو کئی سال سے سرکاری پابندیوں کا سامنا ہے۔ چند سال قبل کرفیو کے دوران اخبارات کی اشاعت بند کردی گئی تھی اور متعدد صحافیوں پر فورسز نے تشدد بھی کیا تھا۔

اس کے علاوہ موبائل فون پر ایس ایم ایس کی سہولت مسلسل مفقود ہے اور مقامی ٹی وی چینلوں پر خبروں کی نشریات پر پابندی ہے۔ کئی عالمی اداروں نے کشمیر میں اظہار رائے کی آزادی پر قدغنوں کو غیرجمہوری قرار دیا ہے۔

اسی بارے میں