بھارت میں لاکھوں ملازمین ہڑتال پر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہڑتال کا مخلتف ریاستوں میں ملا جلا اثر پڑا ہے

بھارت میں پہلی بار تمام مزدور یونینز نے متحد ہوکر منگل سے چوبیس گھنٹے کی عام ہڑتال شروع کی ہے جس سے ملک بھر میں سرکاری اور نجی کمپنیوں کے کام کاج پر اثر پڑا ہے۔

سرکاری دفاتر، بینک اور نقل حمل کے شبعے اس ہڑتال سے متاثر ہوئے ہیں۔

یہ ہڑتال ملازمین، مزدور مخالف سرکاری پالیسی اور بڑھتی مہنگائی کے خلاف کی گئی ہے جس میں لاکھوں سرکاری اور غیر سرکاری ملازمین حصہ لے رہے ہیں۔

اس سے بینکوں، ٹرانسپورٹ، ڈاک خانوں اور بندرگاہوں جیسے شعبوں کے کام کاج پر سب سے زیادہ اثر پڑا ہے۔

کولکتہ، ممبئی، چینائی اور بنگلور جیسے بڑے شہروں میں اس ہڑتال کے ملے جلے اثرات دیکھے جا سکتے ہیں جہاں معمول کے مطابق زندگی نہیں چل رہی ہے۔

دارالحکومت دلی میں سرکاری بسیں چل رہی ہیں اس لیے ہڑتال کا زیادہ اثر نہیں ہے لیکن اس کے باوجود کئی شعبے متاثر ہوئے ہیں۔

خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈيا ( پی ٹی آئی) کے مطابق بینکنگ سیکٹر کا کام سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔

آل انڈیا بینک ایمپلوائز ایسو سی ایشن کے کے جنرل سیکریٹری وسواش اتاگی کا کہنا تھا ’بینکنگ اور مالیات سے متعلق سبھی شعبے پوری طرح بند ہیں، ریزرو بینک آف انڈيا کے کلیئرنگ ہاؤسز بالکل بند ہیں اس لیے نجی اور بیرونی بینک، جہاں ہم موجود نہیں ہیں وہ بھی اس سے متاثر ہوئے ہیں۔‘

ہڑتال کا سب سے زیادہ اثر جنوبی ریاست کیرالا میں دیکھا گیا ہے جہاں صبح ہی سے سڑکوں پر بسیں نہیں چل رہیں، دکانیں بند ہیں اور بینکوں میں کوئی کام کاج نہیں ہورہا ہے۔

غور طلب بات یہ ہے کہ اس ہڑتال میں بائیں بازو سمیت سبھی مزدور یونینز متحد ہوکر حکومت کی پالیسیوں کے خلاف ہڑتال کر رہی ہیں۔

اس میں حکمراں جماعت کانگریس پارٹی اور بھارتیہ جنتا پارٹی سمیت ملک کی سبھی گيارہ بڑی ٹریڈ یونیں بھی شامل ہے۔

اسی بارے میں