چارہ سکینڈل: لالو پرساد پر فردِ جرم عائد

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 1 مارچ 2012 ,‭ 11:09 GMT 16:09 PST

چارہ گھپلے کی وجہ سے ہی لالو پرساد کو وزارت اعلی کا عہدہ چھوڑنا پڑا تھا

بھارتی ریاست بہار کے سابق وزیراعلیٰ لالو پرساد یادو کے خلاف سی بی آئی کی عدالت نے مویشیوں کے چارے میں بدعنوانی کے معاملے میں فردِ جرم عائد کی ہے۔

مویشیوں کے لیے چارہ میں ہوئی بد عنوانی کا معاملہ سنہ انیس سو چھیانوے کا ہے اور فردِ جرم میں سابق وزیر اعلیٰ جگن ناتھ مشرا کے علاوہ لالو پرساد یادو کی جماعت آر جے ڈی کے رکن پارلیمان جگدیش شرما اور سابق رکن اسمبلی آر کے رانا کے نام بھی شامل ہیں۔

لالو پرساد یادو اور جگن ناتھ مشرا نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کے خلاف عدالتی کارروائي ایک سیاسی چال ہے۔

خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق سی بی آئی کے خصوصی جج وی کے شری واستو کی عدالت میں بانکا اور بھاگلپور کے سرکاری خزانوں سے فرضی طور پر چھیالیس لاکھ روپے نکالنے سے متعلق فرد جرم عائد کی گئی ہے۔

چارہ سکینڈل سنہ انیس چھیانوے میں پہلی بار سامنے آيا تھا اور مویشیوں کے پالنے سے متعلق محکمہ سے غیر قانونی طور پر ساڑھے نو سو کروڑ روپے نکالے گئے تھے۔

اس وقت ریاست بہار کے وزیراعلی لا لو پرساد یادو تھے اور کانگریس کے سینیر رہنما جگن ناتھ مشرا اپوزیشن رہنما تھے۔

چاہ گھپلے کے آنے کے بعد ملک میں زبردست سیاسی بحث چھڑ گئی تھی اور پھر اس کی تفتیش مرکزی تفتیشی ادارہ سی بی آئی کے سپرد کی گئی تھی۔

اسی مسئلے پر لالو پرساد یادو کو کئی بار گرفتار کیا گيا تھا اور انہیں وزارت اعلی کی کرسی چھوڑنی پڑی تھی۔ ان کے بعد ان کی بیوی ربڑی دیوی بہار کی وزیراعلیٰ بنی تھیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔