بھارت: ٹریفک قوانین توڑنے پر سخت جرمانے

Image caption بڑے بھارتی شہروں میں ٹریفک کا نظام درہم برہم رہتا ہے

بھارت میں وفاقی کابینہ نے ٹریفک کے قاعدوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف انتہائی سخت جرمانوں کی اجازت دے دی ہے۔

بھارت میں ہر سال ایک لاکھ تیس ہزار سے زیادہ لوگ ٹریفک کے حادثوں میں مارے جاتے ہیں۔

ان جان لیوا حادثوں کو کنٹرول کرنے کے لیے کافی عرصے سے یہ مطالبہ کیا جارہا تھا کہ ٹریفک کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں پر سخت جرمانہ عائد کیا جانا چاہیے۔

وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد اب موٹرگاڑی ایکٹ میں ترمیم کے لیے ایک بل پارلیمان کے بجٹ اجلاس میں پیش کیا جائےگا۔ مجوزہ قانون کے تحت گاڑی میں سیٹ بیلٹ نہ باندھنے پر پانچ سو روپے کا جرمانہ کیا جائے گا حالانکہ فی الحال بڑے شہروں کے علاوہ اس پر زیادہ زور نہیں دیا جاتا۔

شراب پیکر گاڑی چلانے پر زیادہ سے زیادہ دو سال کی سزا اور پانچ ہزار روپے کے جرمانے کی تجویز رکھی گئی ہے لیکن سزا اور جرمانے کا تعین خون میں شراب کی مقدار کی بنیاد پر کیا جائےگا۔ گاڑی چلاتے ہوئے موبائل فون پر بات کرنے والوں کو پہلی مربتہ پکڑے جانے پر پانچ سو روپے دینے ہوں گےاور یہ رقم پانچ ہزار روپے تک بڑھائی جاسکتی ہے۔

سڑکوں پر رفتار کی حد پار کرنے پر کم از کم ایک ہزار روپےکا جرمانہ ہوگا جو دوبارہ پکڑے جانے پر پانچ ہزار روپے تک بڑھایا جاسکتا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ادارے برائے صحت نے گزشتہ ہفتے اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ ٹریفک کے حادثوں کی وجہ سے بھارت کو ہر سال بیس ارب ڈالر کا نقصان ہوتا ہے۔

سرکاری اعداد وشمار کے مطابق سن دو ہزار دس میں ایک لاکھ چونتیس ہزار لوگ سڑک پر ہونے والے حادثوں میں ہلاک ہوئے تھے۔ یہ تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کی اصل تعداد ڈیرھ لاکھ ہوسکتی ہے۔

اسی پس منظر میں سابق سیکریٹری داخلہ جی کے پلائی نے کہا تھا کہ ملک میں ہرسال دو ہزار لوگ دہشت گردی کے واقعات میں ہلاک ہوتے ہیں اور یہ ایک قومی مسئلہ بن جاتا ہے لیکن ایک لاکھ چونتیس ہزار لوگوں کی ہلاکت سرخیوں میں نہیں آپاتی۔

ماہرین کہتے ہیں کہ گاڑی چلاتے وقت موبائل فون کے استعمال سے دنیا بھر میں حادثوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔

اسی بارے میں