لائسنس کی نئی نیلامی،400 دن لگیں گے

سپریم کورٹ
Image caption اس سے قبل بھارتیہ سپریم کورٹ نے ٹو جی کے ایک بائیس لائسنس منسوخ کرنے کا حکم دیا تھا

بھارت کی وزارتِ اطلاعات و نشریات نے سپریم کورٹ سے ٹو جی سپیکٹرم کے ایک سو بائیس لائسنس منسوخ کرنے کی مدت دو جون سے آگے بڑھانے کی اپیل کی ہے۔

حکومت نے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ ایسا نہ کیے جانے پر تقریباً سات کروڑ موبائل صارفین متاثر ہوں گے کیونکہ ٹوجی لائنسسز کی نئی نیلامی کی کارروائی میں کم از کم چار سو دن لگیں گے۔

پانچ صفحوں پر مشتمل اپنی درخواست میں حکومت نے سپریم کورٹ سے کہا ہے کہ ٹوجی سپیکٹرم لائسنس صرف مارچ سنہ دو ہزار تیرہ یا اس کے آس پاس ہی کی تاریخ میں جاری کیے جاسکتے ہیں اس لیے عدالت لائسنس منسوخ کرنے کی مدت میں اضافہ کرے۔

حکومت نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو دھیان میں رکھتے ہوئے پرانے لائسنس منسوخ کرنے کی تاریخ پر غور کر رہی ہے۔

اس سے پہلے وزارت اطلاعات و نشریات نے کہا تھا کہ حکومت ایک سو بائیس لائسنس منسوخ کرنے کے عدالتی فیصلے کو چیلنج نہیں کرے گی۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے دو فرروی کو اپنے ایک اہم فیصلے میں سن دو ہزار آٹھ کے بعد جاری کیے جانے والے سبھی ایک سو بائیس لائسنس منسوخ کرنے کا حکم دیا تھا۔

تاہم عدالت نے وزیر داخلہ پی چدمبرم کے خلاف تفتیش کی درخواست میں مداخلت سے انکار کر دیا تھا۔

عدالت نے کہا تھا کہ پی چدمبرم کے خلاف کارروائی کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں فیصلہ ذیلی عدالت ہی کرے گی جو اس معاملے کی سماعت کر رہی ہے۔

عدالت نے یہ حکم سابق وزیر قانون سبرامیم سوامی اور سماجی کارکن پرشانت بھوشن کی درخواستوں پر جاری کیے ہیں۔

ٹو جی سپیکٹرم کیس میں الزام ہے کہ اس وقت کے وزیر برائے ٹیلی مواصلات اے راجہ نے موبائل فون سروسز فراہم کرنے کے لیے بیش قیمت لائسنس اپنی پسندیدہ کمپنیوں کو بہت کم قیمت پر جاری کیے تھے جس سے سرکاری خزانے کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا۔

ان الزامات کے سلسلے میں اے راجہ اور کئی سابق اعلی سرکاری اہلکار جیل میں ہیں۔

اسی بارے میں