’دس برس سے اپنےگھر میں نہیں سوئے‘

گجرات فسادات کی فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ cjp
Image caption گجرات فسادات میں ایک ہزار سے زیادہ لوگ مارے گئے تھے

بھارت کی ریاست گجرات میں سنہ 2002 کے فسادات کے دس برس بعد بھی ریاست میں ہزاروں مسلمان اپنے گاؤں میں نہیں رہ سکتے ہیں۔ گودھرا سے اسّی کلومیٹر دور انجنوا ایسا ہی ایک گاؤں ہے جہاں مسلمان دن بھر اپنے اپنے گھروں میں رہ کر رات میں وہاں سے چلے جاتے ہیں۔

گجرات میں سنہ 2002 کے فسادات میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بارہ سو سے زیادہ لوگ مارے گئے تھے۔ ان ہلاکتوں کے علاوہ مسلمانوں کو معاشی تباہی کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔

انجنوا کے چاروں طرف مکئی اور گیہوں کی فصل لہلہا رہی ہے۔ حد نطر تک پوری زمین سبز نظر آتی ہے۔ دس برس قبل یہی دن تھے اور یہی موسم تھا۔ یہاں کے باشندے مل جل کر رہ رہے تھے کہ اچانک 2002 کے فسادات نے اس گاؤں کی دنیا بدل دی۔ فسادات کے دوران یہاں کے پندرہ مسلمانوں کو مار دیا گیا۔

دس برس بعد بھی مسلمان یہاں رہنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ وہ دن میں یہاں آتے ہیں اور رات میں کہیں اور چلے جاتے ہیں۔

فرزانہ اسی گاؤں میں رہتی تھیں۔ ان کا کہنا ہے ’دن میں ہم لوگ اپنا کام کر کے شام میں یہاں سے گودھرا چلے جائیں گے۔ یہاں بہت ڈر لگتا ہے۔‘

کچھ ہی دوری پر شیخ عبدالرحیم ایک چار پائی پر بیٹھے ہیں اور اپنے کھیت کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ فسادات میں ان کے تین بیٹے مارے گئے تھے۔ وہ کہتے ہیں ’ہمارا تو سب برباد ہو گیا۔ ہم سے سب لوٹ لیا۔ انسان بھی مر گیا۔ یہ سب مودی نے کرایا ہے۔ ہم تو پردیسی ہو گئے ہیں۔‘

اس چھوٹے سے گاؤں میں مسلمانوں کی چھوٹی سی آبادی تھی۔ اب سبھی نے اپنی زمینیں ہندوؤں کو بٹائی میں پر دے دی ہیں۔ ہارون بھائی جیسے سبھی لوگ یہاں یہی کہتے ہیں کہ مسلمانوں کو ایک سیاسی سازش کے تحت تباہ کیا گیا۔ ’ہمیں ڈر لگتا ہے اور گھبراہٹ ہوتی ہے۔ ان لوگوں کا بھروسہ نہیں ہے۔ اس میں مودی کا ہاتھ ہے۔ سب اسی نے کرایا ہے۔‘

مسلمانوں نے ہلاکتوں اور لوٹ مار کے سلسلے میں نامزد رپورٹیں درج کرائی تھیں۔ ان میں کچھ کو سزا بھی ہوئی لیکن بیشتر ملزمان الزامات سے بری ہو گئے۔

منا بھائی اکبر بھائی شیخ کہتے ہیں یہ فسادات ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیے گئے تھے اور ان کا مقصد مسلمانوں کو اقتصادی طور پر تباہ کرنا ہے۔ ’ممبئی میں بم دھماکے ہوئے، دلی میں ہوئے، احمدآباد میں ہوئے۔ ہر جگہ محض شک کی بنیاد پر لوگوں کو دہشت گردی قانون کے تحت اندر کر دیا گیا۔ گجرات فسادات کے بارے میں سبھی کو معلوم ہے کہ یہ مودی نے کرایا لیکن اس کے خلاف ایک ایف آئی آر بھی درج نہیں ہو سکتی۔‘

حقوق انسانی کے علمبردار اور سماجی کارکن فادر پرکاش سیڈرک کہتے ہیں کہ ریاست میں مودی کا خوف پھیلا ہوا ہے۔ ’یہاں کوئی سیکولر متحدہ اپوزیشن نہیں ہے جو سبھی کو فرقہ پرست عناصر کے خلاف متحد کر سکے۔‘

اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتوں اور بے گھر ہونے والوں کی حالت پر گجرات کا معاشرہ خاموش کیوں ہے؟ لوگ آگے کیوں نہیں آئے؟ سماجی کارکن ڈاکٹر سروپ کہتی ہیں ’گجرات کا متمول اور متوسط طبقہ صرف اپنے مفاد میں دلچسپی رکھتا ہے۔ جب تک اسے نقصان نہیں ہو گا وہ خاموش رہے گا۔‘

معروف دانشور گریش پٹیل کہتے ہیں کہ گجرات کے معاشرے میں تشدد کسی نہ کسی شکل میں موجود رہا ہے اور پچھلے کچھ برس میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کے جذبات میں کافی شدت آئی ہے۔ ’گجرات کا ووکل طبقہ تشدد پر خاموش رہا ہے۔ مسلمانون پر ہونے تشدد پر پورا معاشرہ خاموش رہا ہے یہ ایک حقیقت ہے۔‘

گجرات میں گزرے ہوئے دس برس میں وزیر اعلیٰ نریندر مودی نے سیاسی افق پر نئی منزلین چھوئی ہیں۔ ایک برس کے اندر ہونے والے ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں مودی کی فتح یقینی ہے۔ شاید اس کے بعد وہ ملک کی وزارت عظمیٰ کے بھی امیدوار ہوں۔

لیکن گجرات کے مسلمانوں پر گزرے ہوئے دس برس کا ایک ایک لمحہ بھاری رہا ہے۔ وہ نہ صرف اقتصادی طور پر تباہ ہوئے بلکہ ان کی ایک بڑی تعداد بے گھر بھی ہو گئی ہے۔ ان گزرے ہوئے برسوں میں وہ اپنی بکھری ہوئی زندگی کو سمیٹنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ مودی کے گجرات میں ان پر زندگی تنگ ہو گئی ہے ۔

اسی بارے میں