گجرات: شراب پر پابندی ختم ہونی چاہیے؟

شراب پیتے لوگ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ریاست میں غیرقانونی طریقے سے شراب کی فروختت کا کاروبار پھل پھول رہا ہے

بھارتی ریاست گجرات گزشتہ کئی دہائیوں سے ’ڈرائي سٹیٹ‘ ہے یعنی یہاں مقامی لوگ شراب نہیں خرید سکتے لیکن ان دنوں یہ چہ مگوئیاں جاری ہے کہ اس موضوع پر اب عوامی بحث کی ضرورت ہے۔

سنہ انیس سو ساٹھ میں گجرات کی ریاست کے قیام کے بعد سے ہی یہاں شراب کی خرید و فروخت پر پابندی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہاں کے لوگ شراب نہیں پیتے۔

ریاست میں غیر قانونی طریقے سے شراب فروخت کرنے کا کاروبار برسوں سے پھل پھول رہا ہے۔ بہت سے لوگوں کو یہ لگتا ہے کہ ڈرائی سٹیٹ کی پالیسی بدلنے کا وقت آ گیا ہے۔

راجیو پٹیل کا کہنا ہے ’یہ بہت حیرت انگیز بات ہے کہ گجراتی ہو کر بھی مجھے گجرات میں شراب پینے کی اجازت نہیں ہے جبکہ اگر کوئی غیر ملکی آتا ہے تو اسے پرمٹ دیا جاتا ہے اور وہ شراب پی سکتا ہے۔‘

بنگال اور گجرات جیسی ریاستوں میں غیر قانونی شراب سے موت کے کئی واقعات ہوچکے ہیں۔

مہاتما گاندھی کی پیدائش گجرات میں ہی ہوئی۔ شراب نہ فروخت کرنے کی پالیسی کو گاندھی جی کے خیالات کے ساتھ بھی جوڑ کر دیکھا جاتا ہے.۔

گاندھی کے نظریات کے پروفیسر ترديپ سرود کہتے ہیں ’گاندھی جی یہ کہتے تھے کہ نئے بھارت کا ایک ہدف یہ ہونا چاہیے کہ شراب سے آزاد سماج بنے۔ اس کا مطلب یہ نکالا جا سکتا ہے کہ کوئی ایسا قانون موجود ہو جو ان کے نظریہ کو یقینی کر سکے۔‘

گجرات میں ایک طرف جہاں ڈرائی سٹیٹ کے خلاف احتجاج کرنے والے لوگ ہیں وہیں اس کی حمایت کرنے والے بھی لوگ ہیں۔ ڈرائی سٹیٹ کے حمایتوں کا کہنا ہے کہ شراب کی فروخت نہ ہونے کی وجہ سے گجرات خواتین کے لیے محفوظ جگہ ہے۔

لیکن یہ بھی سچ ہے کہ گجرات میں غیر قانونی شراب کا کاروبار برسوں سے پھل پھول رہا ہے۔ کئی بار غیر قانونی شراب پینے سے بڑی تعداد میں لوگوں کی موت بھی ہو چکی ہے۔

ڈرائی سٹیٹ کی مخالفت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ شراب فروخت کرنے کی اجازت نہ ہونے کی وجہ سے غیر قانونی شراب خوب فروخت ہوتی ہے اور اس شراب کو پینا محفوظ نہیں ہے۔

اسی تنازع کے درمیان ڈرائی سٹیٹ پر بحث جاری ہے۔ حالانکہ حالیہ حالات کو دیکھ کر لگتا ہے کہ گجرات میں مقامی لوگوں کی شراب پینے کی اجازت فی الحال تو ملتی نظر نہیں آتی۔

اسی بارے میں