'ہار کی ذمہ داری قبول کرتاہوں، راہول گاندھی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption یو پی میں راہول گاندھی کی زبردست انتخابی مہم کے باوجود پارٹی کو مایوسی ہوئی ہے

کانگریس کے پارٹی کے جنرل سکرٹری راہول گاندھی نے ریاست اتر پودیش میں اپنی جماعت کی ہار کی ذمہ داری قبول کی ہے اور جیت پر سماجوادی پارٹی کو مبارکباد پیش کی ہے۔

دلی میں نامہ نگاروں سے بات چیت میں راہول گاندھی نے کہا ہے کہ یو پی میں کانگریس پارٹی کی بنیادیں کمزور ہیں اور جب تک انہیں دور نہیں کر لیا جاتا تب کمزوریاں برقرار رہیں گی۔

انہوں نے اس شکست کے متعلق کہا ’ذمہ داری میری ہے۔ ہم سب نے مل کر اچھی طرح سے انتخاب لڑا لیکن نتائج اچھے نہیں آئے۔ تاہم میرا جو وعدہ تھا کہ میں یو پی کےگاؤں اور شہروں میں نظر آتا رہوں گا تو وہ میں کرتا رہوں گا۔ میری پوری کوشش رہی گی کہ میں پارٹی کو اور مضبوط کروں اور جیت حاصل کر سکیں۔‘

راہول گاندھی نے کہا کہ ریاست میں سماجوادی پارٹی کی لہر تھی لیکن اس ہار میں بھی ان کے لیے سبق ہیں اور وہ اپنی جد و جہد جاری رکھیں گے۔

اس سے پہلے کانگریس کے دیگر رہنماؤں نے بھی اپنی شکست تسلیم کر لی تھی اور دگ وجے سنگھ نے کہا تھا کہ وہ ہار کی پوری ذمہ داری لیتے ہیں۔

دوسری طرف بھارتیہ جنتا پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ شکست کانگریس پارٹی ہار ہے۔ پارٹی کے ترجمان نتن گٹکری نے کہا کہ یہ نتائج اس بات کے عکاس ہیں کہ عوام نے مرکز میں کانگریس کی قیادت میں یو پی اے کی حکومت کے خلاف ووٹ دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا: ’یو پی میں کانگریس پارٹی نے انتخابات کو راہول گاندھی کے وقار کا مسئلہ بنا لیا تھا لیکن جس طرح کی ووٹنگ ہوئی ہے اس سے پارٹی کو زبردست نقصان ہوا ہے۔‘

بی جے پی کی سرکردہ رہنما سشما سوارج کا کہنا ہے کہ ان انتخابات سے ایسا لگتا ہے کہ منموہن سنگھ کی قیادت میں یو پی اے حکومت اپنی مدت پوری نہیں کر پائےگی اور وسط مدتی عام انتخابات کا امکان اب بڑھ گيا ہے۔

ادھر ملائم سنگھ یادو نے یو پی میں اپنی پارٹی کی جیت کا سہرا اپنے بیٹے اکھیلیش سنگھ یادو کے سر باندھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مایا وتی کی جماعت بہوجن سماج پارٹی شکست خوردہ ہے اس لیے اس پر وہ کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔

ملائم سنگھ کے بیٹے اکھیلیش سنگھ یادو نے یو پی میں راہول گاندھی ہی کی طرح زبردست مہم چلائی تھی اور ان کی جماعت نے واضح اکثریت حاصل کر لی ہے۔

ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ عوام نے انہیں واضح اکثریت سے نوازہ ہے جس کے لیے وہ سبھی کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ’ہمیں بلا تفریق ذات اور مذہب سبھی نے ووٹ دیا ہے اور حکومت کی تشکیل کے بعد ہماری سب سے پہلی ترجیح اپنے وعدوں کو تکمیل کرنے کی کوشش ہوگي۔‘

اسی بارے میں