گجرات:ظلم کی دو سو داستانیں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption قاسم آباد کی بیوائیں گجرات فسادات کا درد سمیٹے ہوئے ہیں

پینتالیس سالہ زبیدہ بی بی کچھ دیگر خواتین کے ساتھ ایک چھوٹے سے کمرے میں چارپائی پر بیٹھی ہوئی ہیں۔ ان میں کچھ انہیں کی عمر کی ہیں اور کچھ عمر میں ان سے چھوٹی ہیں۔

ان بارہ خواتین کا تعلق بھارتی ریاست گجرات کے پنچ محل ضلع کے دہلول گاؤں سے ہے۔

سنہ دو ہزار دد کے فسادات میں ان کے شوہروں کو چھبیس دیگر افراد کے ساتھ ہلاک کر دیا گیا تھا۔

زبیدہ بی بی گجرات فسادات کے دس برس مکمل ہو جانے کے بعد سے اب تک اپنے گاؤں نہیں لوٹ سکی ہیں۔ وہ این جی اوز کی مدد سے متاثرین کے لیے تعمیر کی گئی ایک بستی قاسم آباد میں رہتی ہیں۔ یہاں دو سو مکان ہیں اور ہر گھر ظلم کی ایک الگ داستان ہے۔

زبیدہ بی بی فسادات کو یاد کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ان کے گاؤں میں مسلمانوں کے ایک سو چالیس گھر تھے۔ ان میں سے اڑتیس افراد کو مارا گیا تھا۔

انہوں نے بتایا ’اب بہت ڈر لگتا ہے۔ پہلے ہندو مسلمان ایک تھالی میں کھاتے تھے۔ وہ ہمارے گھر آتے تھے، ہم ان کے گھر جاتے تھے۔ ایک دوسرے پر اعتماد تھا۔ لیکن فسادات نے سب بدل دیا۔ ہمیں معلوم ہے کہ یہ سب سیاست کا کھیل ہے۔‘

دہلول کی بارہ بیوائیں اس درد و الم کی عکاس ہیں جن سے یہاں کے متاثرین کو گزرنا پڑا ہے۔ وہ کہتی ہیں ’دس برس بعد بھی یہ واقعات ہمارے ذہنوں میں تازہ ہیں۔ اب بھی ڈر لگتا ہے۔ اب بھی وہی موت کی آوازیں کانوں میں گونجتی رہتی ہیں۔‘

قاسم آباد میں دہلول سٹیشن، کالول تالاب ایریا، چاپانیر اور اندرکھیا جیسے کم ازکم نو گاؤں کے متاثرین رہ رہے ہیں۔

شیخ موسیٰ بھائی کا تعلق دہلول سٹیشن گاؤں سے ہے۔ انہوں نے فسادات کے دوران اپنے گاؤں سے بھاگ کر اپنی جان بچائی تھی۔

موسیٰ بھائی کہتے ہیں کہ فسادات پہلے بھی ہوئے تھے لیکن حالات کبھی اتنے برے نہیں ہوئے اور کبھی انہیں اپنا گھر بار نہیں چھوڑنا پڑا تھا۔

’اب پہلے جیسا ماحول نہیں رہا۔ اب سب کی نظر میں یہ بات رہتی ہے کہ ہم مسلمان ہیں۔ اب ڈر لگنے لگا ہے۔‘

قاسم آباد میں یونس بھائی بھی رہتے ہیں۔ ان کے کئی رشتے دار ان فسادات میں مارے گئے تھے۔ وہ خود بھی ایک حملے میں بری طرح زخمی ہوئے تھے۔

ان کے بقول ’سزا تو ایک طرف ا بھی تک قصو رواروں کو پکڑا نہیں گیا۔ کچھ نہیں ہوا۔ ہمارا کیس بھی نہیں آیا ہے۔ ہم کیسے اپنے گاؤں واپس جائیں۔‘

گجرات کے فسادات میں ایک ہزار سے زیادہ مسلمان مارے گئے اور ہزاروں بری طرح زخمی ہوئے تھے۔ بڑے بڑے شہروں میں تو متاثرین اپنی زندگی دوبارہ شروع کرنے میں بہت حد تک کامیاب رہے ہیں۔ لیکن دور دراز کے دیہی علاقوں میں مسلمانوں کے لیے صورت حال اب بھی پیچیدہ بنی ہوئی ہے۔

حکومت نے کئی مقامات پر سکیورٹی بھی فراہم کی ہے لیکن جن علاقوں میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئیں تھی وہاں مسلمانوں کے دل و دماغ سے فسادات کا خوف نہیں جا سکا ہے۔

وزیر اعلیٰ نریندر مودی کی حکومت اور مقامی انتظامیہ نے بھی مسلمانوں کا خوف دور کرنے اور ماحول سازگار کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی ہے۔

اسی بارے میں