مدھیہ پردیش میں زبردستی نس بندی کے الزامات

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سومترا کے ایک ہی بچی ہے اور اس کی نسبندی کر دی گئی ہے

بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش کی حکومت نے رواں برس دس فیصد آبادی کو خاندانی منصوبہ بندی کے دائرہ میں لانے کا ہدف رکھا ہے اور اسے حاصل کرنے کے لیے سبھی سرکاری محکموں کو ہدایات جاری کئی گئی ہیں۔

اس مہم کے دوران سرکاری عملے پر یہ الزامات لگائے جارہے ہیں کہ انہوں نے اپنے مشن کے لیے لوگوں کو یا تو لالچ دیا ہے یا پھر انہیں ڈرا دھمکا کر ایسا کرنے پر مجبور کیا ہے۔

بھیم پور میں قبائلی خاندان کی ایک نوجوان لڑکی سومرتی نے الزام عائد کیا کہ اس کی عمر ابھی صرف انیس برس کی ہے اور اس کی گود میں چند ماہ کی صرف ایک بچي ہی ہے اس کے باوجود اس کی نس بندی کر دی گئي۔

وہ کہتی ہیں ’میں نے پٹواری اور سرپنچ کے دباؤ میں آکر نس بندی کروائی ہے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ اگر میں نس بندی نہیں کراؤں گی تو میرے خاندان کا روزگار کارڈ منسوخ کر دیا جائےگا‘۔

سومرتی کا کہنا تھا کہ نس بندی کرانے کے باوجود حکومت نے ان کی کوئی مدد نہیں کی ہے جبکہ اس سے پہلے اس کا وعدہ کیا گيا تھا۔

بعض دیگر افراد نے بھی اسی طرح کی شکایت کی کہ ان سے یہ کہا گيا ہے کہ اگر انہوں نے نس بندی نہیں کروائی تو ان کا روزگار کارڈ منسوخ کر دیا جائیگا۔

بیتول علاقے میں محکمہ صحت کے ایک سینیر اہل کار رجنیش شرما نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ ’ہم نے نس بندی کرانے کے لیے لوگوں کی حوصلہ افزائی کی ہے اور جن افراد کے دو بچے تھے انہیں خاندانی منصبہ بندی کے لیے کہا گيا لیکن کسی کے ساتھ زبردستی نہیں کی گئی‘۔

اطلاعات کے مطابق نس بندی کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے ریاست کے بہت سے قبائلی لوگوں کی بھی نس بندی کر دی گئي جس کی شدید مخالفت ہورہی ہے۔ ناقدین کہتے ہیں کہ حکومت کے اس فیصلے سے شیڈول ذاتوں اور قبائلیوں کے وجود کو ہی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

بھیم پور کے علاقے کے ایک سینئر افسر ایس این سنہا کا کہنا ہے کہ حکومت کی طرف سے قبائلیوں کی نس بندی نہ کرنے کے متعلق انہیں کوئي ہدایت نہیں ملی ہے۔

مسٹر چوہان کہتے ہیں ’حکومت کی طرف سے ہمیں جو ہدایات ملی ہیں اس میں کہیں اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی ہے کہ درج فہرست ذاتوں یا قبائلیوں کو خاندانی منصوبہ بندی کی سکیم میں نہ شامل کیا جائے۔ اگر سرکار سے ایسے احکامات ملتے تو ان کے درمیان اس پروگرام کو نہیں نافذ کرتے‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption نسبندی کی اس متنازعہ مہم کی بـعض حلقوں کی طرف مخالف ہوئی ہے

تاہم ان کا کہنا تھا ’ہاں بعض زیادتیوں یا دھمکیوں کی جو بات سامنے آئی ہے تو ہم اس کی تفتیش کروائیں گے‘۔

بھیم پور کے علاقے میں سرکاری ملازمین کو علاقے کی آبادی کے دس فیصد لوگوں کی نس بندی کرنے کو کہا گيا تھا اور حکام نے یہ ہدف تین ماہ میں ہی حاصل کر لیا ہے جس پر سرکاری ملازمین کو انعامات بھی دیے گئے ہیں۔

ریاست مدھیہ پردیش میں حزب اختلاف کی جماعت کانگریس نے حکومت کے اس فیصلے کی مخالفت کی ہے۔ کانگریس رہنما اجے سنگھ کا کہنا تھا کہ زبردستی لوگوں کی نس بندی غلط بات ہے۔

اسی بارے میں