یو پی: اکھیلیش یادو ریاست کے وزیر اعلٰی

اکھیلیش یادو تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اکھیلیش ریاست کے سب کم عمر کے وزیراعلی ہیں

بھارت کی شمالی ریاست اتر پردیش میں سماجوادی پارٹی کے نوجوان رہنماء اکھیلیش یادو نے وزیر اعلٰی کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔

اکھیلیش یادو سابق وزیر اعلٰی ملائم سنگھ یادو کے بیٹے ہیں۔

سماجوادی پارٹی نے چار سو تین رکنی قانون ساز اسمبلی کے حالیہ انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کی تھی۔

گورنر بی ایل جوشی نے اکھیلیش یادو کے ساتھ کابینہ کے درجے کے انیس وزراء کو بھی حلف دلایا۔ اکھیلیش یادو سینتالیس رکنی وزارتی کونسل کے سربراہ ہوں گے۔

حلف برداری کی تقریب دارالحکومت لکھنؤ میں ہوئی جس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ سب سے پہلے حلف لینے والوں میں محمد اعظم خان اور شیوپال یادو شامل تھے جو وزیر اعلٰی کا عہدہ اکھیلیش یادو کو سونپے جانے کی مخالفت کر رہے تھے۔

شیوپال یادو ملائم سنگھ کے چھوٹے بھائی ہیں اور اعظم خان پارٹی کے بانیوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ دونوں ہی اس حق میں تھے کہ وزیراعلٰی کی ذمہ داری خود ملائم سنگھ کو سنبھالنی چاہیے۔ لیکن کافی کوششوں کے بعد ملائم سنگھ انہیں منانے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

کابینہ میں پرتاپ گڑھ ضلع کے متنازع رہنماء رگھوارج پرتاپ سنگھ بھی شامل ہیں جو آزاد امیدوار کی حیثیت سے اسمبلی کے لیے منتخب ہوئے ہیں۔

کابینہ میں ان کی شمولیت پر سوال اٹھائے جارہے ہیں کیونکہ ان کے خلاف بہت سے سنگین مقدمات قائم ہیں اور انہیں وزیر بنایا جانا اکھیلیش یادو کے اس وعدے سے ہم آہنگ نہیں ہے کہ وہ ریاست میں امن و قانون کی صورتحال کو بہتر بنانے پر سب سے زیادہ توجہ دیں گے۔

ریاست میں سماجوادی پارٹی کی سابقہ حکومت ’غنڈہ راج‘ کے نام سے بدنام ہوئی تھی اور اکھیلیش یادو نے انتخابی مہم کے دوران بار بار یہ بات دہرائی تھی کہ ماضی کی غلطی دوبارہ نہیں دہرائی جائے گی۔

انتخابات سے قبل اعظم خان اور اکھیلیش یادو کے درمیان ڈی پی یادو کو پارٹی میں شامل کرنے پر اختلافات پیدا ہوئے تھے۔ ڈی پی یادو بھی مغربی اتر پردیش کے ایک متنازع رہنماء ہیں جنہیں پارٹی کا ٹکٹ دینے سے اکھیلیش یادو نے انکار کردیا تھا۔

وزارتی کونسل میں ایک بھی خاتون شامل نہیں ہے۔

اکھیلیش یادو کی عمر صرف اڑتیس برس ہے اور وہ ریاست کے سب سے کم عمر وزیر اعلٰی ہیں۔ لیکن اہم سوال یہ ہے کہ کیا وہ عوام کی توقعات پر پورا اترپائیں گے کیونکہ سماجوادی پارٹی نے اپنے انتخابی منشور میں کسانوں کے لیے مفت بجلی اور پانی، طالب علموں کے لیے مفت لیپ ٹاپ اور مسلمانوں کے لیے اٹھارہ فیصد ریزوریشن جیسے بہت سے بڑے بڑے وعدے کیے ہیں جنہیں پورا کرنا ریاستی حکومت کے لیے آسان نہیں ہوگا۔

اسی بارے میں